ڈومبیولی کے مسلمان ۳۰؍سال سے قبرستان کیلئے کوشاں

Updated: June 04, 2021, 8:13 AM IST | ajaz abdulgani | Mumbai

کورونا بحران میں میت دفنانےمیں پریشانیوں کا سامنا، گھاٹ کوپر اور بائیکلہ کے قبرستانوں میں لے جانا پڑ رہا ہے،میونسپل کمشنر کو میمورنڈم سونپا گیا

Members of the delegation discussing after meeting the Municipal Commissioner.Picture:Inquilab
میونسپل کمشنر سے ملاقات کے بعد وفد کے اراکین تبادلہ خیال کرتے ہوئے تصویر انقلاب

الہاس نگر کی طر ح ڈومبیولی میں رہنے والے مسلمان بھی گزشتہ ۳۰؍ سال سےایک عدد قبرستان کیلئے میونسپل انتظامیہ سے مسلسل خط وکتابت کررہے ہیں ۔سنی مسلم جماعت مسجد ٹرسٹ نے قبرستان کے ریزروقطعہ اراضی کے حصول کیلئے چار سال قبل کلیان کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی تھی۔ کورونا بحران میں میت دفنانے میں آرہی دشواریوںکے پیش ِ نظر کلیان ڈومبیولی شہر کانگر یس کمیٹی اور سنی مسلم جماعت مسجد ٹرسٹ کے ذمہ داران نے میونسپل کمشنر وجے سوریہ ونشی سے ملاقات کر کے انہیں ایک میمورنڈم دیا ۔ وفد میں شامل اراکین نے میونسپل کمشنرسے قبرستان کیلئے مختص کی گئی جگہ کو  فوری طور پر مسلمانوں کے سپرد کر نے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب عید گاہ روڈ کی توسیع کے دوران نیو گووند واڑی میں بسائے گئے ہزاروں مسلمانوں کیلئے کچورے علاقہ میں مختص کئے گئے قبرستان کا معاملہ بھی ہنوز حل نہیں ہو سکا ہے۔  
۳۰؍ سال سے قبرستان کیلئے جدوجہد
 ڈمبیولی مشرق اور مغرب میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۴۰؍ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ان میں مانپاڑہ، سونار پاڑہ ، کھمبال پاڑہ، کنچن گاؤں، ساگاؤں ، وشنو نگر، رام نگر، آئرے روڈ ، پاتھرلی، کوپر گاؤں جیسے علاقوں میں بڑی تعداد میں مسلمان بستے ہیں۔ البتہ یہاں کے مسلمانوں کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ قبرستان کا ہے۔ ایک طویل عرصہ سے یہاں کے شہر ی ایک عدد قبرستان کا مطالبہ کررہے ہیں مگر سیاسی جماعتیں اپنےمفاد کی خاطر اس سنگین نوعیت کے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ یہاں کے مسلمانوں کو تدفین کیلئے۸؍ سے ۱۰؍ کلو میٹر کا سفر طے کر کے کلیان جانا پڑ تا ہے۔کچھ سال قبل کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) نے کانچن گاؤں ( سٹی سروے نمبر ۱۷) میں ۴۰۰۰؍ اسکوائر میٹر قطعہ اراضی قبرستان کیلئے مختص کی تھی۔ لیکن ایک طویل عرصہ گزر نے کے بعد بھی میونسپل انتظامیہ نے اس جانب کوئی توجہ مذکور نہیں کی جس کی وجہ سے قبرستان کا مسئلہ جوں کا توں بنا ہو اہے۔ اس ضمن میں سنی مسلم جماعت مسجد ٹرسٹ کے خازن عبدالقادر بیری نے نمائندہ ٔ انقلاب کو بتایا کہ حکومت سےگزشتہ ۳۰؍ برسوں سے ایک عدد قبرستان کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن کے ڈی ایم سی انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرسٹ کے ذمہ داران نے میونسپل کارپوریشن کے اعلی افسران سے اب تک متعدد مرتبہ ملاقات کی ہے لیکن کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔ 
کووڈ کی میت ممبئی لے جانے پر مجبور
 عبدالقادر بیری نے بتایا کہ کورونا بحران کے دوران ڈومبیولی مشرق اور مغرب میں رہائش پزیر افراد جن کا کووڈ ۱۹؍کے سبب انتقال ہو گیا تھا کی تدفین کیلئے اہل خانہ کو کافی مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔ ہوا یوں کہ کلیان کے ٹیکری قبرستا ن میں جگہ کم ہو نے کی وجہ سے قبرستان انتظامیہ نے ڈومبیولی کی میت لانے سے منع کردیا۔ ممبرا میں بھی یہی مسئلہ پیدا ہو نے سے میتوں کو گھاٹ کوپر اور بائیکلہ کے قبرستان میں لے جانا پڑا۔ ایک سوال کے جواب میں عبدالقادر بیر ی نے کہا کہ انتظامیہ کو جگانے کیلئے جمہوری طریقہ سے مظاہرہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
 وفد کی میونسپل کمشنر سے ملاقات
 کلیان ڈومبیولی شہر کانگر یس کمیٹی کے نائب صدر شبو شیخ کی قیادت میں جمعرات کو ایک وفد نے کے ڈی ایم سی کے میونسپل کمشنر وجے سوریہ ونشی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد میں شامل افتخار خان، عبدالقادر بیری ،حاجی پٹیل،اعظم خان ، اکبر خان، وجاہت خان اور دیگر اراکین نےمیونسپل کمشنرکو ایک میمور نڈم دے کرفوری طور پر قبرستان کیلئے جگہ الاٹ کر نے کا مطالبہ کیا۔ شبو شیخ نے بتایا کہ ایک دودن میں وہ قبرستان کے مسئلہ کو حل کر نے کیلئے اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک سے ملاقات کر نے والے ہیں۔ 

dombivli Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK