• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈومبیولی ایم آئی ڈی سی میں کیمیائی آلودگی کے سبب سڑکیں گلابی ہوگئیں

Updated: December 14, 2025, 9:02 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai

سڑکوں، گاڑیوں اور نالوں میں پھیلی اس کیمیائی آلودگی سےشہریوں میں تشویش،شہری انتظامیہ پر لاپروائی برتنے کا الزام

Municipal workers can be seen cleaning the road.
میونسپل ملازمین کو سڑک کو صاف کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

ایم آئی ڈی سی کے صنعتی علاقے میں کیمیائی آلودگی کا مسئلہ کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ یہ انتظامی ناکامیوں کی ایک طویل داستان ہے جو ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔ سنیچر کو ایم آئی ڈی سی فیز ۲ ؍کی سڑکوں پر خطرناک کیمیائی پاوڈر کی تہہ جم گئی جس کے نتیجے میں پورا علاقہ گلابی رنگ میں ڈوب گیا اور ۲۰۲۰ء کی سنگین آلودگی کی صورتحال دوبارہ آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ سڑکوں، گاڑیوں اور نالوں میں پھیلی یہ کیمیائی آلودگی نہ صرف عوامی صحت اور ماحولیات کے لئے براہ راست خطرہ ہے بلکہ یہ ذمہ دار محکموں کی بدترین لاپروائی کا کھلا ثبوت بھی ہے۔
 ڈومبیولی کے صنعتی علاقے فیز ۲؍میں ایک بار پھر کیمیائی آلودگی سے اچانک سڑکیں گلابی رنگ  کی ہوگئیں اور نالے کا پانی بھی اسی رنگ میں تبدیل ہو گیا۔ علاقے میں قائم کیمیائی فیکٹریوں سے خارج ہونے والے زہریلے دھوئیں اور کیمیائی مادوں سے آلودہ پانی کے اثرات شہری پہلے بھی بارہا جھیل چکے ہیں۔ ماضی میں سڑکوں کا رنگ سبز اور  نارنجی ہو چکا ہے۔پہلے بھی اسی طرح سڑکیں گلابی ہو گئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی تیز کیمیائی بدبو نے مقامی افراد میں مستقل سر درد، آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دشواری جیسے سنگین صحت کے مسائل پیدا کئے ہیں۔
  ۲۰۲۰ء میں اس طرح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد اُس وقت کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور ماحولیات کے وزیر آدتیہ ٹھاکرے نے خود ایم آئی ڈی سی کا دورہ کیا تھا اور واضح ہدایت دی تھی کہ آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو متعلقہ صنعتوں کو تالا لگا دیا جائے گا۔ ریاستی حکومت نے ۲۰۲۲ ء میں ۱۵۶ ؍کارخانوں کی منتقلی کا باقاعدہ فیصلہ تو کر لیا مگر صنعتی تنظیم’ کاما‘ کی شدید مخالفت کے باعث منصوبہ آج تک تعطل کا شکار ہے۔ نتیجہ یہ کہ کارخانے وہیں قائم ہیں اور آلودگی جوں کی توں جاری ہے۔
 تازہ واقعہ کی تفتیش کے دوران کچھ کمپنی ملازمین نے چونکا دینے والا انکشاف کئے ہیں۔ ان کے مطابق نالے سے گاد (کیچڑ) نکالنے کے دوران کیمیائی آلودگی سے بھری گاد اور کچرا سڑک کنارے ڈال دیا گیا۔ جب یہ گاد سوکھ گئی تو اس میں موجود کیمیائی پاؤڈر ہوا کے ذریعے سڑکوں پر پھیل گیا اور پورا علاقہ گلابی رنگ میں نہا گیا۔ تاہم اصل سوال بدستور قائم ہے یہ کیمیائی پاؤڈر کہاں سے آیا اور اتنی بڑی مقدار میں خطرناک فضلہ سڑک کنارے کس کی اجازت سے پھینکا گیا؟

dombivli Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK