مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت سے نہ روکا جائے: پوپ فرانسس

Updated: April 19, 2022, 7:10 AM IST | Vatican City

ویٹی کن سٹی میں ایسٹر کی سب سے بڑی تقریب سے پو پ کا خطاب ،کہا: اسرائیل کو کسی کی مذہبی آزادی سلب کرنے کا حق نہیں۔ ا پیل کی: اسرائیلی، فلسطینی اور مقدس شہر میں رہنے والے تمام افراد زائرین کے ساتھ مل کرامن کی خوبصورتی کا تجربہ کریں، بھائی چارے کے ساتھ رہیں اور ہر ایک کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے مقدس مقامات تک آزادانہ رسائی حاصل کریں

Among the participants in Pope Francis, St. Peter`s Square. (PTI / AP)
پوپ فرانسس ، سینٹ پیٹرا سکوائر میں شرکا ء کے درمیان ۔ ( پی ٹی آئی / اے پی)

 رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس  نے ایسٹر کے موقع پر اسر ائیل سے  زورکر کہا کہ فلسطینیوں کا مسجد اقصیٰ میں عباد ت نہ روکا جائے ۔  انہوں نےقیام امن پر بھی زور دیا ۔  پوپ فرانسس نے ایسٹر کے موقع پر اتوار کو کہا کہ بیت المقدس میں مقدس مقامات پر آزادانہ داخلے کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بیت المقدس کی خاطر امن کا مطالبہ کرتے ہیں اور بیت المقدس سے محبت رکھنے والے مسیحی ، یہود ی اور مسلمانوں کی خاطر امن چاہتے ہی۔ پوپ نے تمام فریق کے حقوق کے احترام پر زور دیا۔
 واضح رہے کہ بیت المقدس  میں الاقصیٰ مسجد کے احاطے اوراس کے آس پاس فلسطینی مظاہرین اوراسرائیلی پولیس کے درمیان  تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں اوراس  دوران  مظاہرین زخمی ہو ئے ہیں۔۳؍ روز قبل جمعہ کو مسجد اقصیٰ کے احاطے اور آس پاس اسرائیلی سکوریٹی فورسیز اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔
  اسی پس منظر رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے مقبوضہ بیت المقدس میں تمام مذاہب کے مقدس مقامات تک آزادانہ رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔وہ اتوار کو اس مقدس شہر میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کے حالیہ واقعات کے تناظر میں عیسائیوں کے تیوہار ایسٹر پرسالانہ خطاب کررہے تھے۔انہوں نے اپنے دعائیہ کلمات میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، جو برسوں سے جاری تنازعات اور تقسیم کا نشانہ بن رہا ہے۔اس شاندار دن پر آئیے یروشلم(مقبوضہ بیت المقدس) میںقیام امن کے خواہشمند اور اس سے محبت کرنے والے تمام  عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کیلئے امن کا مطالبہ کریں۔
 پوپ نے کہا کہ اسرائیلی، فلسطینی اور مقدس شہر میں رہنے والے تمام افراد زائرین کے ساتھ مل کرامن کی خوبصورتی کا تجربہ کریں۔ بھائی چارے کے ساتھ رہیں اور ہر ایک کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے مقدس مقامات تک آزادانہ رسائی حاصل کریں۔
  واضح رہےکہ ویٹی کن میں دو سال بعد کورونا پابندیوں کے بغیر ایسٹر کا تہوارمنایا گیا۔ پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو کسی کی مذہبی آزادی سلب کرنے کا حق نہیں۔ویٹی کن سٹی میں ایسٹر کی سب سے بڑی تقریب ہوئی، کورونا  وائرس کی پابندیاں ختم ہونے کے بعد شرکاء کی بڑی تعداد تہوار میں شرکت کیلئے پہنچی۔پوپ فرانسس نے سینٹ پیٹرا سکوائر میں شرکا ء سے خطاب کیا اور مذہبی رسومات ادا کیں۔اس موقع پر پوپ فرانسس نے اپنے خطاب میں اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت سے نہ روکا جائے۔
  واضح رہےکہ  مقبوضہ بیت المقدس میں تازہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب تینوں ابراہیمی عقائد کے پیروکار اپنے بڑے تیوہار ایک ساتھ منا رہے ہیں۔ یہودی فسح، عیسائی ایسٹر اور مسلمانوں کا رمضان کا مقدس مہینہ ہے اور عبادت وریاضت کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔
 گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب مارچ کے آخراوراپریل کے اوائل میں اسرائیل کے ساحلی شہرتل ابیب میں یا اس کے قریب فلسطینیوں نے دو مہلک حملے کئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسیز نے چھاپہ مار کارروائیوں میں فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی ہیں۔ اس کے بعد سے حالات خراب ہی ہوتے جارہےہیں۔ کشیدگی کم نہیںہورہی ہے۔ 
 اسرائیلی پولیس کا مسجد اقصیٰ پر 
مسلسل چوتھے روز دھاوا
   اسی دوران اسرائیلی پولیس نے پیر کو مسلسل چوتھے روز مسجد اقصیٰ کے صحن پر دھاوا بولا۔ اس کارروائی کا مقصد یہودی آباد کاروں کے گروپ کے دورے کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیو  میں اسرائیلی پولیس کے مسجد اقصی پر دھاوے اور وہاں سے نمازیوں کو باہر نکالنے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔  پیرکو بھی مسجد اقصی کے اطراف جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں۱۹؍ افراد گرفتار کر لئے گئے۔اسرائیلی پولیس اہل کاروں کا القدیمہ ٹاؤن میں فلسطینیوں  سے تصادم ہوا۔ یہ تصادم یہودیوں کے گروپ کے مسجد اقصیٰ کے دورے کے بعد ہوا۔ اس دوران میں فلسطینیوں کی جانب سے پتھراؤ سے دو بسوں کے کچھ شیشے ٹوٹ گئے۔ اس میں سوار افراد معمولی زخمی بھی ہوئے۔
 ا دھر پیر کو انتہا پسند یہودی اسرائیلی پولیس کی سرپرستی میں مسلمانوں کے قبلہ اول میں گھس گئے۔ اسرائیلی فورسزیزنے نمازیوں کو مسجد سے نکال کر تالے لگا دیئے۔فجر کی نماز کے وقت کئی یہودی شدت پسند گروپ مسجد الاقصی میں داخل ہوئے اور نمازیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہودی گروپوں کو اسرائیلی فورسیز کی سرپرستی حاصل تھی۔ حالات کی کشیدگی کا بہانہ بنا کر یہودی فورسیز نے تمام مسلمانوں کو باہر نکال کر مسجد کے دروازے پر تالے لگا دیئے۔فلسطینی ہلال احمر کے مطابق حملے میں۹؍ نمازی زخمی ہوگئے جبکہ اتنے ہی فلسطینیوں کو اسرائیلی پولیس نے گرفتار کر لیا۔
 عرب اتحاد  کاحکومت سے مستعفی ہونے کا انتباہ 
   اسرائیل کی نفتالی بینیٹ کی حکومت میں شامل عرب اقلیتی اتحادی گروپ نے بتایا تھا کہ اس نے حکومت میں اپنی رکنیت کو معلق کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ مسجد میں اسرائیلی سیکوریٹی فورسز کی جانب سے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونا ہے۔ اتحادی گروپ کے مطابق اگر صورتحال تبدیل نہ ہوئی تو وہ سرکاری طور پر مستعفی ہونے پر غور کرے گا۔اسرائیل کی آبادی میں۲۱؍ فیصد عرب ہیں۔ نفتالی بینیٹ کے حکومتی اتحاد کو پارلیمنٹ کی۱۲۰؍ میں سے۶۰؍ نشستیں حاصل ہیںجن میں سے۴؍ نشستیں عرب اتحاد کی ہیں۔حکومتی اتحاد میں مختلف نظریات کی حامل بائیں بازو کی ، سخت گیر یہودی قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ عرب اتحاد’ الموحدہ‘ بھی شامل ہے۔مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں جاری پر تشدد واقعات  کے بعد الموحدہ پر اس کا دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ حکمراں اتحاد سے نکل جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK