مسجد ِنبویؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن الحذیفی نے مسجدِ نمرہ میں خطبۂ حج میں کہا کہ ’’اللہ کا تقویٰ تم پر لازم ہے، اسی میں دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے ‘‘،امسال ۱۷؍ لاکھ ۱۷؍ ہزار حاجیوں نے خطبہ سماعت کیا
EPAPER
Updated: May 26, 2026, 11:55 PM IST | Makkah
مسجد ِنبویؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن الحذیفی نے مسجدِ نمرہ میں خطبۂ حج میں کہا کہ ’’اللہ کا تقویٰ تم پر لازم ہے، اسی میں دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے ‘‘،امسال ۱۷؍ لاکھ ۱۷؍ ہزار حاجیوں نے خطبہ سماعت کیا
سعودی عرب میں منگل کو حج کے سب سے اہم رکن وقوفِ عرفات کی ادائیگی کے موقع پر دنیا بھر سے آنے والے۱۷؍ لاکھ ۱۷؍ ہزار سے زائد حجاج کرام میدانِ عرفات میں جمع ہوئے جہاں انہوں نے روح پرور ماحول میں خطبۂ حج سنا۔ مسجد نمرہ میں امامِ مسجد نبویؐ الشیخ عبدالرحمٰن الحذیفی نے خطبہ دیتے ہوئے امتِ مسلمہ کو تقویٰ، صبر، اتحاد، رواداری اور باہمی احترام کا درس دیا۔امامِ مسجد نبویؐ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ تقویٰ اہلِ ایمان کی شان ہے اور مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت پر قائم رہنا چاہئے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ شیخ عبدالرحمٰن الحذیفی نے کہا کہ توحید پر عمل کرنا مومن کی پہچان ہے اور جب اہلِ ایمان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات پیش کی جاتی ہیں تو ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے نبی اکرمؐ کو خاتم النبیین قرار دیا اور کہا کہ آپ کی تعلیمات ہی کامیابی کا راستہ ہیں۔
خطبۂ حج میں امامِ مسجد نبویؐ نے مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ’’مسلمانوں کو کسی بھی مصیبت یا آزمائش میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چا ہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لئے ہی اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔‘‘ انہوں نے سچ بولنے، بدعت اور غیبت سے بچنے اور نیکی و تقویٰ کی راہ اختیار کرنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ حجاج کرام دورانِ حج ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے ذکر، دعا اور عبادت میں مشغول رہیں، نمازوں کی پابندی کریں اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن قوموں نے ظلم، سرکشی اور ناشکری اختیار کی ان سے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں واپس لے لیں۔
امامِ مسجد نبویؐ نے کہا کہ اللہ اور بندے کے درمیان مضبوط تعلق ہی نجات کا ذریعہ ہے اس لئے مسلمان اپنے رب کے ساتھ تعلق مضبوط کریں اور حج کے دوران ہر قسم کے جھگڑے، اختلاف اور لڑائی سے اجتناب کریں کیونکہ یہ اعمال امت کے اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ خطبۂ حج میں عالمِ اسلام کے امن، مسلمانوں کی بھلائی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لئے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ خطبے کے بعد مسجد نمرہ میں نمازِ ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی گئی جبکہ حجاج کرام غروبِ آفتاب تک میدانِ عرفات میں دعاؤں، توبہ و استغفار اور مناجات میں مصروف رہے۔ وقوفِ عرفہ مکمل ہونے کے بعد حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہوگئے۔ مزدلفہ میں حجاج، مغرب اور عشا کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کرنے کے بعد رات بسر کریں گے، رمی کے لئے کنکریاں چنیں گے اور ۱۰؍ ذی الحجہ کو حجاج کرام جمرات میں شیطان کو کنکریاں ماریں گے اور پھر قربانی کریں گے