Inquilab Logo Happiest Places to Work

حجاج کیلئے بہتر پانی کی فراہمی، سعودی عرب میں روز ۴؍ ہزار سے زائد لیباریٹری ٹیسٹ

Updated: May 26, 2026, 9:02 PM IST | Jeddah

نیشنل واٹر کمپنی رواں حج سیزن کے دوران عازمین حج کو صاف اور معیاری پانی فراہم کرنے کیلئے روزانہ ۴؍ ہزار سے زائد لیباریٹری ٹیسٹ انجام دے رہی ہے۔ مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات پر جدید مستقل اور موبائل لیبارٹریوں کے ذریعے پانی کے نمونوں کی مسلسل جانچ کی جا رہی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سعودی عرب میں حج سیزن کے دوران عازمین حج کو صاف، محفوظ اور صحت بخش پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر نگرانی اور جانچ کا نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق نیشنل واٹر کمپنی روزانہ پانی کے نمونوں کے ۴؍ ہزار سے زائد لیبارٹری ٹیسٹ کر رہی ہے تاکہ حجاج کو اعلیٰ معیار کا پانی فراہم کیا جا سکے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مکہ مکرمہ میں قائم کمپنی کی مرکزی لیبارٹری جدید عالمی معیار کی ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جبکہ اس کے ساتھ متعدد موبائل اور مستقل لیبارٹریاں بھی فیلڈ میں مسلسل کام کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : میدان عرفات میں ٹھنڈک کے خصوصی انتظامات، چھتری کے استعمال کی ہدایت

سعودی عرب میں یہ لیبارٹریاں مقدس مقامات کے اندر مختلف اہم آبی ذرائع اور پانی کی تقسیم کے مراکز سے حاصل کیے گئے نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کرتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے معیار کی نگرانی کا یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صحت کے خطرے سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ اس مقصد کیلئے خصوصی فیلڈ ٹیمیں ۲۴؍ گھنٹے مختلف مقامات سے پانی کے نمونے جمع کرتی ہیں۔ بعد ازاں تربیت یافتہ تکنیکی عملہ ان نمونوں پر ضروری کیمیائی، حیاتیاتی اور معیار سے متعلق ٹیسٹ انجام دیتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پانی سعودی اور بین الاقوامی صحت کے منظور شدہ معیارات کے مطابق ہے۔

یہ بھی پڑھئے : سعودی عرب: یومِ عرفہ پر۳۳ سال بعد مکہ مکرمہ میں سورج عین خانہ کعبہ کے اوپر

سعودی حکومت ہر سال حج اور عمرہ سیزن کے دوران بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دیتی ہے، جن میں صاف پانی، صحت کی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور ہجوم کے نظم و نسق کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ حکام کے مطابق اس سال بھی مقدس مقامات پر پانی کی فراہمی کے پورے نظام کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ لاکھوں عازمین کو شدید گرمی کے موسم میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK