Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب: یومِ عرفہ پر۳۳ سال بعد مکہ مکرمہ میں سورج عین خانہ کعبہ کے اوپر

Updated: May 25, 2026, 10:01 PM IST | mecca

سعودی عرب کے محکمۂ موسمیات کے مطاق یومِ عرفہ پر ۳۳؍ سال بعد مکہ مکرمہ میں سورج عین خانہ کعبہ کے بالکل اوپر آجائے گا، یہ نایاب ملاپ آخری بار سال ۱۹۹۳ء میں دیکھا گیا تھا۔ محکمہ موسمیات نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ ایک قدرتی اور بار بار ہونے والا فلکیاتی واقعہ ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

تفصیلات کے مطابق اس سال حج کے بابرکت موقع پر مکہ مکرمہ میں ایک انتہائی نایاب اور تاریخی فلکیاتی واقعہ رونما ہونے جا رہا ہے، جہاں سورج عین یومِ عرفہ کے دن خانہ کعبہ کے بالکل اوپر آجائے گا۔ ماہرینِ فلکیات نے کہا کہ یہ منفرد منظر ۲۷؍ مئی ۲۰۲۶ء بروز بدھ دوپہر کے وقت پیش آئے گا، جو کہ اسلامی تقویم کے لحاظ سے ۹؍ ذوالحجہ ۱۴۴۷ھ ہجری یعنی یومِ عرفہ کا دن ہوگا۔ اس مخصوص لمحے پر سورج کا زاویہ خانہ کعبہ کے بالکل اوپر ہونے کی وجہ سے مکہ مکرمہ اور اس کے گردونواح میں خانہ کعبہ سمیت ہر چیز کے سائے عارضی طور پر پورے ختم ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے : غزہ فلوٹیلا معاملہ: ملائیشیا اسرائیل کو عالمی عدالت میں لے جانے کی تیاری میں

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطِ استوا اور خطِ سرطان کے درمیان سورج کی ظاہری گردش اور مکہ مکرمہ کے جغرافیائی محل وقوع (۴ء۲۱؍ ڈگری شمالی عرض بلد) کی وجہ سے سورج کا خانہ کعبہ کے اوپر آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ یہ عمل سال میں دو بار ہوتا ہے۔ تاہم اس واقعے کو جو چیز انتہائی خاص اور نایاب بناتی ہے، وہ اس کا اسلامی سال کے مقدس ترین دن ’یومِ عرفہ‘ کے ساتھ یکجا ہونا ہے۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق اس سے قبل یومِ عرفہ اور سورج کے خانہ کعبہ کے عین اوپر آنے کا یہ نایاب ملاپ آخری بار سال ۱۹۹۳ء میں دیکھا گیا تھا۔ قمری ہجری کیلنڈر اور شمسی عیسوی کیلنڈر کے دنوں کے فرق کی وجہ سے یہ حیرت انگیز اتفاق تقریباً ۳۳؍ سال کے طویل عرصے بعد دوبارہ رونما ہو رہا ہے، کیونکہ قمری چکر کو دوبارہ اسی شمسی تاریخ پر آنے کیلئے تقریباً ۳۳؍ برس کا وقت درکار ہوتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے محکمۂ موسمیات نے اس حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک قدرتی اور بار بار ہونے والا فلکیاتی واقعہ ہے اور اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس دن درجہ حرارت میں کوئی غیر معمولی یا ریکارڈ ساز اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے : حج کی تیاریاں سعودی عرب کے’ ویژن۲۰۳۰ء‘ کی عکاس ہیں

محکمہ موسمیات کے ترجمان حسین القحطانی نے میڈیا کو بتایا کہ موسم کی صورتحال صرف سورج کی پوزیشن پر نہیں بلکہ ہوا میں نمی، بادلوں کی موجودگی، ہوا کی رفتار اور فضائی دباؤ جیسے کئی دیگر عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس واقعے کو شدید ترین گرمی سے جوڑنے والے دعوے سائنسی طور پر درست نہیں ہیں اور مرکز اس حوالے سے تمام تر جدید ٹیکنالوجی، مانیٹرنگ اسٹیشنز اور پیشگوئی کے ماڈلز کے ذریعے مکہ مکرمہ اور مشاعرِ مقدسہ کے موسم پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ ترجمان نے عوام اور عازمینِ حج سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی صورتحال کیلئے صرف سرکاری اور مستند ذرائع پر ہی بھروسہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK