بنگال میں بی جےپی کی فتح کے بعدجشن کےنام پر برپا کئے جانے والے تشدد کا نشانہ مساجد، مسلمانوں کے گھر اور گوشت کی دکانیں بنیں۔
EPAPER
Updated: May 11, 2026, 10:45 AM IST | Kolkata
بنگال میں بی جےپی کی فتح کے بعدجشن کےنام پر برپا کئے جانے والے تشدد کا نشانہ مساجد، مسلمانوں کے گھر اور گوشت کی دکانیں بنیں۔
بنگال میں بی جےپی کی فتح کے بعدجشن کےنام پر برپا کئے جانے والے تشدد کا نشانہ مساجد، مسلمانوں کے گھر اور گوشت کی دکانیں بنیں۔ اس کی تصدیق اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس(اے پی سی آر) نے ایک رپورٹ میں کی ہے۔ اے پی سی آر نے تشدد اور خوف و ہراس کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے جس میں ۴؍سے۷؍مئی کے درمیان بنگال کے مختلف اضلاع میں پیش آنے والے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق تشدد کے دوران کم از کم۲؍افراد ہلاک ہوئے جن میں سے ایک مسلم شخصکوچ بہار ضلع کے گوسانی ماری میں ایک مسجد کی حفاظت کی کوشش کے دوران مارا گیا۔
رپورٹ میں کم از کم ۸؍اضلاع میں تشدد کے ۳۴؍ واقعات درج کئے گئے۔ کوچ بہار اور شمالی چوبیس پرگنہ میں ۷ -۷، جنوبی چوبیس پرگنہ اور کولکاتا شہر میں ۵-۵، مرشد آباد میں ۳؍ اور ہاوڑہ میں ۴؍واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔ پورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تشدد میں مسلمانوں، مسلم املاک، مساجد، مویشیوں کے بازاروں ، گوشت کی دکانوں، اور ترنمول کانگریس کے دفاتر نیز اس کے لیڈروں کی رہائش گاہوں کونشانہ بنایا گیا۔ اس دوران کم از کم ۵۰؍ مسلمان جسمانی تشدد کا نشانہ بنے یا کسی اور طرح متاثر ہوئے جبکہ مسلمانوں کی ۵۴؍ املاک پر حملہ کیاگیا یا انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ کوچ بہار میں مساجد پر حملے ہوئے، باراسات میں مسلمانوں کے ہوٹلوں کو منہدم کیا گیا۔ نندینا اور ابوترا گاؤں میں مسلمانوں کے مکانات میں توڑ پھوڑکی گئی اور کولکاتا میں مسلم پھیری والوں اور دکانداروں پر حملے ہوئے۔
رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ بلڈوزر کے ساتھ ریلیاں نکالی گئیں جن میں مسلمانوں کی دکانوں اورکاروباری اکائیوں کو نقصان پہنچایاگیا۔ تشدد کے ان واقعات کو اے پی سی آر نے اپنی رپورٹ میں قتل، حملہ، دھمکی، املاک پر حملے، انہدام، بلڈوزر کارروائی اور ’’معاشی حد بندی‘‘ کے زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ املاک پر حملوں کے۱۹؍ معاملات، دھمکی کے۱۴، انہدام کے ۴؍ اور بلڈوزر تشدد کے ۳؍ واقعات درج کئے گئے ہیں۔ تشدد کے کئی واقعات میں ’’نان ویج ‘‘ (گوشت وغیرہ سے بنے) کھانوں کی فروخت اور نقل و حمل کو نشانہ بنانے کیلئے کئے گئے۔ ایسے واقعات بطور خاص ہاوڑہ، کولکاتا میٹرو اور جنوبی چوبیس پرگنہ میں پیش آئے۔ چوبیس پرگنہ میں مویشیوں کے بازار زبردستی بند کروائے گئے جبکہ باراسات میں گوشت کی دکانوں اور مسلم ہوٹلوں پر حملےہوئے۔
الزام ہے کہ کوچ بہار میں ۳؍مساجد پر حملےکئے گئے جبکہ گوسانی ماری میں ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے جلوس نکالا گیا اور اس دوران مسجد پر حملہ ہوا۔ نندینا اور ابوترا گاؤں میں مسلمانوں کے ۱۵؍ گھروں میں توڑ پھوڑ ہوئی اور ہاوڑہ ضلع کے بیرسیب پور میں ایک امام پر حملہ ہوا۔ ہاوڑہ کے دومجور میں آزاد ہند کالج میں مسلم خواتین کو حجاب پہننے سے روکا گیا۔
شرپسندوں نے ’’این پَیرا مسجد بڑی روڈ‘‘ کے نام کی تختی کو بدل کر’’نیتاجی پلی روڈ‘‘اور ’’سراج الدولہ ادیان‘‘ کو بدل کر ’’شیواجی ادیان‘‘کرنے کی کوشش کی۔ جنوبی چوبیس پرگنہ کے بعض علاقوں میں بی جے پی کے جلوسوں میں دھمکی آمیز اور نازیبا زبان کا استعمال کیا گیا۔ جماعت اسلامی کے خلاف بھی جلوس نکالے گئے کیونکہ بھگوا عناصر کو شبہ تھا کہ اس کے اراکین نے لوگوں سے بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔