میانمار: انٹرنیٹ سروس معطل، کشیدہ حالات میں بھی مظاہرین کے حوصلے بلند

Updated: April 04, 2021, 2:41 PM IST | Agency | Yangon

انٹرنیٹ خدمات غیر معینہ مدت تک بند، مختلف پابندیوں کے باوجود ملک بھر میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج میں شدت، گرفتاریوں کا سلسلہ دراز

Demonstrators in various parts of Burma chanted slogans against the military coup.Picture:PTI
برما کے متعدد مقامات پر مظاہرین نے فوجی بغاوت کے خلاف مختلف اشیاء بجاکر احتجاج کیا۔ تصویر: پی ٹی آئی

  میانمار میں جمہوری  حکومت کا تختہ پلٹ کر اقتدار پر قابض فوج نے اپنے خلاف عوا می احتجاج کی تحریک کو کمزور کرنےکیلئے  ملک بھر میں انٹرنیٹ سرو سیزکو مکمل طور پر غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کردیا ہے۔ وزارت مواصلات و روابط کی جانب سے ملک بھر کی تمام ٹیلی کام  اور برانڈ بینڈ سروسیزکوبند کرنے  کےاحکامات جاری کرد یئے گئے ہیں۔ اس کے  باوجود ملک بھر میں فوجی بغاوت کے خلاف  احتجاج میں مزیدشدت آ تی جارہی  ہے۔ سنیچر کو بھی رنگون سمیت دیگر شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاج کا ایک اور نیا طریقہ اختیار کیا۔مظاہرین نے پترے کے ڈبے اور دیگر چیزوں کو  بجاکر فوج کے مظالم کے خلاف شدید احتجاج  کیا اور بلند آواز میں حب الوطنی کے نغمے گنگنائے، ذرائع کے مطابق  کے مختلف  مقامات پر فوج  اور مظاہرین کی جھڑپیں بھی ہوئیں اور کئی افراد کو گرفتار بھی کیاگیا ہے۔  قابلِ غور ہے کہ فوجی بغاوت کے خلاف اس احتجاج میں  مظاہرین  سول نافرمانی کی تحریک کو مزیدتیز کررہے ہیںاور فوج کے تمام تر مظالم کے باوجود جمہوریت پسند مختلف طریقوں سے دنیا کی توجہ ا س جانب مبذول کروارہے ہیں۔ گزشتہ دنوںکچرا ہڑتال   کی گئی تھی  جس کے سبب بیشتر مقامات پر کچرے کے ڈھیر لگ گئے۔  وہیں  مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں مہلوکین کو خراج عقیدت دینے کیلئے موم بتی کے ساتھ ریلیوں اور مظاہروں کا بھی  اہتمام کیا گیا۔  انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جمعہ کو  بھی  سیکڑوں کو افراد کوزبردستی حراست میں لیا گیا ہے ۔ ان  میں سیا ستداں، الیکشن حکام، صحافی اور دیگر افراد شامل ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ یکم فروری سے  لے کر اب تک۳؍ ہزار سے زائد  افراد کو  میں لیا  جاچکا ہے۔ اور اب تک ساڑھے ۵۰۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ میانمار کی فوج کےان مظالم پرمختلف ممالک مذمت کررہے ہیں اور فوجی عہدیداروں پر  پابندیاں  عائد کررہے ہیں۔ اس کے باوجود برمی فوج کے  تیورمیں کوئی تبدیلی اور نرمی  نظر نہیں آر ہی ہے۔ عوامی احتجاج کو طاقت سے دبانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔

myanmar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK