یہ کیس ۲۰۱۹ء میں گامبیا نے دائر کیا تھا جس میں میانمار پر ۲۰۱۷ء کی فوجی مہم کے دوران عالمی نسل کشی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس نسل کشی کے نتیجے میں تقریباً ۷؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار سے زائد روہنگیا شہری ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔
EPAPER
Updated: January 13, 2026, 2:24 PM IST | The Hague
یہ کیس ۲۰۱۹ء میں گامبیا نے دائر کیا تھا جس میں میانمار پر ۲۰۱۷ء کی فوجی مہم کے دوران عالمی نسل کشی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس نسل کشی کے نتیجے میں تقریباً ۷؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار سے زائد روہنگیا شہری ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔
اقوامِ متحدہ (یو این) کے تحت عالمی عدالت برائے انصاف (آئی سی جے) میانمار کے خلاف، ملک کی اکثریتی مسلم روہنگیا اقلیت کے خلاف مبینہ جرائم پر نسل کشی کے ایک تاریخی مقدمے کی سماعت شروع کرنے والی ہے۔ یہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں دنیا کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے شروع کیا جانے والا نسل کشی کا پہلا مکمل ٹرائل ہے۔ یہ کیس ۲۰۱۹ء میں افریقی ملک گامبیا نے دائر کیا تھا جس میں میانمار پر ۲۰۱۷ء کی فوجی مہم کے دوران عالمی نسل کشی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس نسل کشی کے نتیجے میں تقریباً ۷؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار سے زائد روہنگیا شہری بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ تعطل کا شکار، جنگ کا پھر خطرہ
روہنگیا پناہ گزینوں نے اس دوران پیش آئے اجتماعی ہلاکتوں، جنسی تشدد اور تباہی کے ہولناک واقعات بیان کئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن نے بعد میں نتیجہ اخذ کیا کہ ان کارروائیوں میں ’’نسل کشی پر مبنی اقدامات‘‘ شامل تھے۔ تاہم، میانمار ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے اور اس فوجی کارروائی کو مسلح گروپس کے حملوں کے خلاف، دہشت گردی مخالف کارروائی قرار دیتا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی کی تعریف اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے مستقبل کا تعین کر سکتا ہے۔ میانمار کے لیے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی میکانزم کے سربراہ نکولس کومجیان نے کہا کہ یہ کیس نسل کشی کو ثابت کرنے اور ریاست کی ذمہ داری کے تعین کے حوالے سے اہم مثالیں قائم کر سکتا ہے۔ حساسیت کے پیشِ نظرآئی سی جے کی سماعتیں بند کمرے میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’نکولس مادورو بلند حوصلہ کے ساتھ صورتحال کا سامنا کررہے ہیں‘‘
پناہ گزین انصاف کے لیے پُر امید
بنگلہ دیش کے کاکس بازار کیمپوں میں موجود روہنگیا پناہ گزینوں نے اس پیش رفت پر امید کا اظہار کیا ہے۔ یہاں رہائش پذیر ۳۷؍ سالہ خاتون حنیفہ بیگم نے نسل کشی کے دوران قتل و غارت گری اور بڑے پیمانے پر جنسی تشدد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم انصاف اور امن چاہتے ہیں۔‘‘ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ عالمی عدالتِ انصاف کے پاس اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کے براہِ راست اختیارات نہیں ہیں، لیکن اس کیس کی سماعت کے بعد مستقبل میں روہنگیا متاثرین کی ملک واپسی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ’ویمن پیس نیٹ ورک‘ میانمار کی وائی وائی نو نے کہا کہ یہ ٹرائل دہائیوں کے دکھوں کے ازالے کے لیے ’’نئی امید‘‘ فراہم کرتا ہے۔ نہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مجرموں کو سزا دلانے کے لیے اپنا عزم برقرار رکھے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی صدر ٹرمپ نے ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دیا
میانمار کا بدلتا ہوا سیاسی موقف
۲۰۱۹ء کی ابتدائی سماعتوں کے دوران میانمار کی اس وقت کی اسٹیٹ کاونسلر آنگ سان سوچی نے نسل کشی کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ تاہم، ۲۰۲۱ء کی فوجی بغاوت کے بعد اپوزیشن کی نیشنل یونٹی گورنمنٹ نے عالمی عدالت کے دائرہ اختیار کو قبول کرلیا ہے۔ میانماز کی جانب سے اس کیس پر سابقہ اعتراضات واپس لے لئے گئے ہیں اور ان ریاستی ناکامیوں کا اعتراف کیا ہے جن کی وجہ سے روہنگیا کے خلاف مظالم ہوئے۔ یاد رہے کہ اس معاملے میں میانمار کے فوجی سربراہ من آنگ ہلاین، روہنگیا کے اخراج سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا کررہے ہیں۔