وزارت خارجہ کے مطابق، ہندوستان نے ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۵ء کی تین سالہ مدت کے دوران کمبوڈیا سے ۲،۵۳۳، لاؤس سے ۲،۲۹۷ اور میانمار سے ۲،۱۶۸ شہریوں کو بچایا ہے۔ حکومت نے پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کا مسئلہ ان تینوں ممالک کے حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔
EPAPER
Updated: February 06, 2026, 10:00 PM IST | New Delhi
وزارت خارجہ کے مطابق، ہندوستان نے ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۵ء کی تین سالہ مدت کے دوران کمبوڈیا سے ۲،۵۳۳، لاؤس سے ۲،۲۹۷ اور میانمار سے ۲،۱۶۸ شہریوں کو بچایا ہے۔ حکومت نے پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کا مسئلہ ان تینوں ممالک کے حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔
مرکزی حکومت نے جمعرات کے دن پارلیمنٹ میں بتایا کہ ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کمبوڈیا، میانمار اور لاؤس میں واقع سائبر کرائم مراکز سے ۶،۹۹۸ ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا ہے۔ حکومت نے اعتراف کیا کہ ان مراکز میں اب بھی پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی درست تعداد معلوم نہیں ہے۔
ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے، وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ نئی دہلی کو ان ’مشکوک فرموں‘ کے کردار سے آگاہ کر دیا گیا ہے جو ملازمت کی جعلی پیشکشوں کے ذریعے ہندوستانیوں کو بیرونِ ملک لے جاتی ہیں اور انہیں منظم سائبر فراڈ کی کارروائیوں میں کام کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ایک تحریری جواب میں سنگھ نے کہا کہ بہت سے ہندوستانی دھوکہ دہی کرنے والے بھرتی ایجنٹس یا غیر قانونی ذرائع کے ذریعے ”اپنی مرضی سے“ ان اسکیم مراکز تک پہنچتے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کے لیے یہ سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس وقت کتنے افراد وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی: لاپتہ ایک لاکھ میں سے ۹۷۰۰؍ کے بارے میں معلومات: الہ آباد ہائی کورٹ برہم
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان نے ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۵ء کی تین سالہ مدت کے دوران کمبوڈیا سے ۲،۵۳۳، لاؤس سے ۲،۲۹۷ اور میانمار سے ۲،۱۶۸ شہریوں کو بچایا ہے۔ سنگھ نے مزید کہا کہ حکومت نے پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کا مسئلہ ان تینوں ممالک کے حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔
مرکز کا یہ بیان جنوب مشرقی ایشیاء سے کام کرنے والے بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورکس کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ چین کے زیرِ انتظام مجرمانہ گروہ بڑے اور سخت پہرے والے ”اسکیم کمپاؤنڈز“ چلاتے ہیں جہاں اسمگل شدہ کارکنوں، جن میں ہندوستانی افراد بھی شامل ہیں، کو اپنے ہی وطن میں موجود متاثرین کو نشانہ بنانے والے آن لائن فراڈ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اسکیم کالز کرنے والے بہت سے افراد خود بھی متاثرہ ہیں، جنہیں اکثر وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے پر مارا پیٹا جاتا ہے یا دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں نے محبوس ہونے، نگرانی کیے جانے اور روزانہ فراڈ کے اہداف پورے کرنے پر مجبور کیے جانے کے واقعات بیان کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: مذہبی اقلیتوں، ناقدین پر غیر قانونی اقدامات سے نشانہ: ہیومن رائٹس واچ
وزارتِ خارجہ نے کمبوڈیا اور لاؤس میں ملازمت کی مشکوک بیرونِ ملک پیشکشوں کے خلاف شہریوں کو کئی مرتبہ مشاورتی نوٹس جاری کیے ہیں۔ حکام نے ملازمت کے متلاشی افراد پر زور دیا ہے کہ وہ صرف حکومت سے منظور شدہ بھرتی ایجنسیوں کا استعمال کریں اور سفر کرنے سے پہلے ملازمت کے معاہدوں کی تصدیق کریں۔
حکومت نے مزید کہا کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور ان کارروائیوں میں پھنسے ہوئے مزید ہندوستانی شہریوں کو واپس لانے کے لیے غیر ملکی مشنز، مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ ہم آہنگی کو مضبوط بنا رہی ہے۔