میانمار: باغی گروہوں کا عوامی تحریک کی حمایت کا اعلان

Updated: April 05, 2021, 2:21 PM IST | Agency | Yangon

رپورٹ کے مطابق ۱۰؍ مسلح گروہوں نے آپس میں میٹنگ کی اور عام مظاہرین پر فوج کی جانب سے فائرنگ کی سخت مذمت کی

Despite the restrictions of the ruling army, the mass protest movement intensified across the country.Picture:Agency
اقتدار پر قابض فوج کی پابندیوںکے باوجود ملک بھر میں عوامی احتجاج کی تحریک مزید زور پکڑ رہی ہے۔ تصویر: ایجنسی

  میانمار میں عوام کی منتخب کردہ حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی مخالفت میں عوام کا احتجاج شدید تر ہوتا جارہا ہے۔  قابض فوج اس تحریک کو  طاقت کے بل پر کچلنے کی ہرممکن حربے آزما رہی ہے، اس کے باوجود جمہوریت حامی ہر مظالم کی پروا کئے بغیر بلند عزائم کے ساتھ سینہ سپر ہیں  ۔ اب   برما کے ۱۰؍ بڑے مسلح  نسلی باغی گروپوں نے فوج کی ڈکٹیٹرشپ  کے خلاف  عوامی تحریک کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس  سے اب  خدشہ بڑھ گیا ہے کہ    یہ جنوبی ایشیائی ملک مزید بد امنی کا شکار ہو سکتا ہے۔
  ذرائع کے مطابق میانمار میں طویل عرصے سے فوج اور مسلح باغی  گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں،  جمہوری  حکومت کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا تھا۔ رخائن ، کارین اور اطراف کے صوبوں میں ایسے گروہوں  بڑی تعداد میں سرگرم ہیں اور گھات لگا کر فوج کے ٹھکانوں پر  حملہ کرنے کیلئے جانے جاتےہیں۔ اب  یہ اطلاع ہے کہ عوام پر فوج  کےبڑھتے ہوئے مظالم کے مد نظر ان  گروہوں نےفوج کے خلاف عوامی تحریک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
 ’فوجی کونسل کو جواب دہ ہونا ہوگا‘
   مختلف ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز  ایسے  ۱۰؍ باغی گروہوں نے ملاقات کا اہتمام کیا تھا اور ملک میں عام  مظاہرین پر فوج کی جانب سے فائرنگ کے  معاملات کی مذمت کی۔ اس موقع پر باغی گروپ’ ` ریسٹوریشن کونسل آف شان اسٹیٹ‘ کے لیڈر یعاد سرک کا کہنا تھا کہ عوام پر اس درجے کے مظالم کیلئے فوجی کونسل کے  لیڈروں کو جواب دہ ہونا ہوگا۔ مبصرین کے مطابق مذکورہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ دنوں ہی  ان ہی میں سے ایک گروہ ’کیرن نیشنل یونین‘ (کے این یو) نے کیرن ریاست میں ایک فوجی اڈے پر قبضہ کر کے ۱۰؍ فوجی افسروں کو  ہلاک کر دیا۔ اس کے جواب میں فوج نے بھی ان کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی تھی ۔  مذکورہ گروہ مطابق  فوج کے فضائی حملوں کے باعث بچوں سمیت کئی افراد ہلاک ہوئے ہیںاور تقریباً ۱۲؍ہزار افراد کو اپنی جان بچانے کیلئے محفوظ مقام پر منتقل ہونا  پڑا ہے۔
  یہ بھی اطلاع  ہے کہ کیرن نیشنل یونین گروپ  نے فوج کے  خلاف   عوامی مظاہروں میں سرگرم کئی سرکردہ کارکنان کو  بھی پناہ دی ہے۔ 
 واضح رہے کہ میانمار میں یکم فروری کو فوج نے اقتدار پر قبضہ کرکے ملک میں ایک سال کیلئے ایمرجنسی نافذ کردی تھی اور حکمراں جماعت کی لیڈر آن سانگ سوچی سمیت دیگر لیڈروںکو تاحال حراست میں  رکھا گیا ہے۔ فوج کے ملک  پر قبضے کے  بعد جمہوریت کی بحالی کے مطالبے پر ملک گیر مظاہرے جاری ہیں۔ ا س تحریک کو کچلنے  کیلئے فوج بھی طاقت کا بے تحاشہ استعمال کررہی ہے اور مختلف سخت پابندیاں عائدکی جارہی  ہیں۔
  بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ سرو سیز اور موبائل ڈیٹا کے استعمال پر عائد پابندیوں کے باعث عام لوگوں کی  معلومات تک رسائی مشکل تر ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود عوام کا بڑا طبقہ منظم ہوکر فوج  کے احتجاج میں پیش  پیش ہے۔ مختلف  خبررساں اداروں نے  دعویٰ کیا کہ فوج کے اہلکار عوامی لیڈرو ں کی نشاندہی کرکے انہیں گرفتار کررہے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیکڑوں کو افراد کوزبردستی حراست میں لیا گیا ہے ، ان  میں سیا ستداں، الیکشن حکام، صحافی اور دیگر افراد شامل ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ یکم فروری سے  لے کر اب تک ۳؍ ہزار سے  زائد  افراد کو  میں لیا  جاچکا ہے۔ 
 برمی ادارے’ اے اے پی پی ‘ کے مطابق  دوران احتجاج فائرنگ کے نتیجے میں گزشتہ ۲؍ ماہ میں ۵۰۰؍ سے زیادہ  افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ مہلوکین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
   عوام پر فوج کی ان  پر تشدد کاررائیوں کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ نے میانمار کے ساتھ جمہوری حکومت کی بحالی تک تجارتی ڈیل ختم کردی ہے اور دیگر ممالک  نے بھی برمی فوجی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان سب کے باجود برمی فوج ڈھٹائی پر مصرہے۔

myanmar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK