Inquilab Logo Happiest Places to Work

این چندرشیکھرن کا ٹاٹاسنس سے الگ ہونے کا فیصلہ: آخر کیا وجہ ہے؟

Updated: August 12, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

ٹاٹا گروپ میں ایک بڑی قیادتی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ این چندرشیکھرن نے ٹاٹا سنس کے چیئرمین کے طور پر اپنی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ تقرری کی خواہش نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی موجودہ مدت فروری ۲۰۲۷ء میں ختم ہوگی۔

N Chandrasekhar.Photo:INN
این چندرشیکھر۔ تصویر:آئی این این

ٹاٹا گروپ میں ایک بڑی قیادتی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ این  چندرشیکھرن نے ٹاٹا سنس کے  چیئرمین کے طور پر اپنی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ تقرری کی خواہش نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی موجودہ مدت  فروری ۲۰۲۷ء میں ختم ہوگی۔ان کے اس فیصلے نے ٹاٹا گروپ کے مستقبل،ٹاٹا ٹرسٹس اور ٹاٹا سنس کے درمیان تعلقات اور گروپ کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’حیوان‘‘ ٹیزر: اکشے کمار کا خطرناک روپ، نابینا سیف علی خان کوجان کا خطرہ

چندرشیکھرن نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟
رپورٹس کے مطابق چندرشیکھرن کی دوبارہ تقرری کو بورڈ کی جانب سے  متفقہ حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کے ایک رکن نے ان کی نئی مدت کی حمایت نہیں کی۔ اس صورتحال کے بعد چندرشیکھرن نے دوبارہ تقرری کے بجائے اپنی موجودہ مدت مکمل کرکے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم  ان کے فیصلے کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں سمجھی جا رہی۔ رپورٹس میں  ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نول ٹاٹا کے ساتھ اختلافات کو بھی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔
 ٹاٹاٹرسٹس کے پاس ٹاٹا سنس میں تقریباً ۶۶؍ فیصد حصص ہیں، اس لیے ٹاٹا گروپ کے اعلیٰ انتظامی معاملات میں ٹرسٹس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ رَتن ٹاٹا کے انتقال کے بعد نول ٹاٹا نےٹاٹا ٹرسٹس  کی قیادت سنبھالی۔ اس کے بعد گروپ کی حکمت عملی اور مختلف اہم کاروباری فیصلوں کو لے کرٹاٹا ٹرسٹس اور ٹاٹا سنس کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ان میںٹاٹا سنس کی ممکنہ اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ، ایئر انڈیا    کی کارکردگی اور گروپ کی مستقبل کی حکمت عملی  جیسے معاملات شامل بتائے جاتے ہیں۔  ٹاٹا سنس کے مستقبل سے متعلق سب سے اہم معاملات میں کمپنی کی  آئی پی او یا اسٹاک ایکسچینج پر لسٹنگ بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو اور جارجینا روڈریگز نے پرتگال میں شادی کرلی

ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے ضابطوں کے تحت ٹاٹا سنس کی لسٹنگ ایک اہم موضوع رہی ہے۔ کمپنی کے اندر اس معاملے پر حکمت عملی اور ٹائم لائن کو لے کر بھی بحث ہوتی رہی ہے۔این  چندرشیکھرن نے  فروری ۲۰۱۷ء میں ٹاٹا سنس کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا۔ وہ ٹاٹا گروپ کے پہلے غیر پارسی اور پیشہ ور ایگزیکٹیو چیئرمین بنے۔ ان کے دور میں ٹاٹا گروپ نے کئی بڑے کاروباری فیصلے کیے، جن میں ایئر انڈیا  کا حصول، ایوی ایشن بزنس کی تنظیم نو اور مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شامل ہے۔
چندرشیکھرن کے دور میں ٹاٹا گروپ کو کچھ بڑے چیلنجز کا بھی سامنا رہا ہے۔ایئر انڈیا کی مالی اور آپریشنل کارکردگی، جیگوائر لینڈروور  کی فروخت میں کمزوری اور گروپ کی بعض دیگر کمپنیوں کی کارکردگی  نے بھی تشویش پیدا کی ہے۔ ان کے دوبارہ عہدہ نہ سنبھالنے کی خبر کے بعد ٹاٹا گروپ کی کئی لسٹڈ کمپنیوں کے شیئرز میں بھی دباؤ دیکھا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK