• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نول ٹاٹا کی قیادت میں ٹاٹا ٹرسٹس نے ٹاٹا سنز کی تنظیم نو کی تجویز کا دفاع کردیا

Updated: October 06, 2026, 5:04 PM IST | Mumbai

ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نول ٹاٹا اور ٹرسٹیوں نے ٹاٹا سنز کی مجوزہ تنظیم نو پر اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ٹاٹا سنز کو حصص بازار میں فہرست ہونے سے بچانا اور کمپنی کو ہندوستانی ریزرو بینک کے ضوابط کے مطابق ایک قانونی راستہ فراہم کرنا ہے۔

Noel Tata.Photo:INN
نول ٹاٹا۔ تصویر:آئی این این

ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نول ٹاٹا اور ٹرسٹیوں نے ٹاٹا سنز کی مجوزہ تنظیم نو پر اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ٹاٹا سنز کو حصص بازار میں فہرست ہونے سے بچانا اور کمپنی کو  ہندوستانی ریزرو بینک کے ضوابط کے مطابق ایک قانونی راستہ فراہم کرنا ہے۔ ٹرسٹیز نے واضح کیا کہ بھارتی ریزرو بینک نے ٹاٹا سنز کو فہرست ہونے کا حکم نہیں دیا بلکہ کمپنی کی بنیادی سرمایہ کاری کمپنی کی حیثیت ختم کرنے کی درخواست مسترد کی ہے۔
 نول ٹاٹا کے ساتھ سِر دوراب جی ٹاٹا ٹرسٹ کے ٹرسٹی داریس کھمبتا، نول ٹاٹا اور بھاسکر بھٹ نے ٹرسٹی وینو سرینواسن اور وجے سنگھ کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹاٹا سنز کو غیر فہرست شدہ کمپنی برقرار رکھنے کا موقف کوئی نیا فیصلہ نہیں بلکہ کئی برس سے ٹاٹا ٹرسٹس اور خود ٹاٹا سنز کی مستقل پالیسی رہی ہے۔
وینو سرینواسن اور وجے سنگھ نے اس سے قبل اعتراض کیا تھا کہ ٹاٹا سنز کی تنظیم نو سے متعلق ۲۸؍ ستمبر کی تجویز پر انہیں مناسب طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ذیلی کمپنیوں کو ٹاٹا سنز میں ضم کرنے کی تجویز کے ذریعے کمپنی کو حصص بازار میں فہرست ہونے سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ٹاٹا ٹرسٹس کی مجوزہ تنظیم نو کے تحت  ٹاٹا الیکٹرانکس سسٹمز سالیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ  اور  ٹاٹا کنسلٹنگ انجینئرز لمیٹڈ  کو ٹاٹا سنز میں ضم کرنے کی تجویز ہے۔ ٹرسٹس کے مطابق اس انضمام کے نتیجے میں ٹاٹا سنز کی سرگرمیوں میں حقیقی کاروباری آمدنی کا حصہ بڑھے گا اور کمپنی بنیادی سرمایہ کاری کمپنی اور غیر بینکاری مالیاتی کمپنی کے طور پر درجہ بندی کی شرائط پر پورا نہیں اترے گی۔
ٹاٹا ٹرسٹس کے مطابق ۳۱؍ مارچ۲۰۲۶ء تک مجوزہ مشترکہ ادارے کی عملی کاروباری آمدنی تقریباً ۱۰۵۰۴۳؍ کروڑ روپے  ہوگی، جبکہ مالی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدنی تقریباً۴۰۰۷۲؍کروڑ روپے  ہوگی۔ ٹرسٹس کا کہنا ہے کہ اس ساخت کے تحت کمپنی بنیادی کاروباری سرگرمیوں کے معیار کو پورا کرے گی اور اسے بنیادی سرمایہ کاری کمپنی کے طور پر برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یہ بھی پڑھئے:فیروز خان کو بالی ووڈ کے سب سے زیادہ اسٹا ئلش ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے

 نول ٹاٹا کی قیادت میں ٹرسٹیوں نے کہا کہ  ہندوستانی ریزرو بینک کے ۱۱؍ ستمبر کے خط میں ٹاٹا سنز کو حصص بازار میں فہرست ہونے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی۔ ریزرو بینک نے ٹاٹا سنز کی بنیادی سرمایہ کاری کمپنی کی حیثیت ختم کرنے کی درخواست مسترد کی، لیکن کمپنی کو یہ نہیں بتایا کہ اسے لازماً حصص بازار میں فہرست ہونا ہوگا۔ٹرسٹیوں کے مطابق اس خط نے دراصل ٹاٹا سنز کے لیے ایک ایسا قانونی اور ضابطہ جاتی راستہ تلاش کرنا ضروری بنا دیا ہے جس کے ذریعے کمپنی کو فہرست کیے بغیر موجودہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
 ٹرسٹیوں نے اپنے موقف کے حق میں ٹاٹا سنز کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق مارچ ۲۰۲۴ء میں ٹاٹا سنز کے بورڈ نے، آنجہانی رتن ٹاٹا کی رہنمائی میں، متفقہ طور پر کمپنی کو غیر فہرست شدہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کے بعد مئی اور جولائی ۲۰۲۵ء میں سِر دوراب جی ٹاٹا ٹرسٹ اور سِر رتن ٹاٹا ٹرسٹ کے بورڈز نے بھی ایسے فیصلے کیے جن میں ٹاٹا سنز کی غیر فہرست شدہ حیثیت برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ دونوں ٹرسٹس مجموعی طور پر ٹاٹا سنز کے تقریباً ۵۴ء۵۱؍ فیصدحصص رکھتے ہیں، جبکہ ٹاٹا ٹرسٹس کی مجموعی حصص داری تقریباً ۶۶؍ فیصد  ہے۔
 ٹرسٹیوں نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ ٹاٹا ٹرسٹس ٹاٹا سنز کے انتظامی معاملات میں براہ راست مداخلت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹس ٹاٹا سنز کو نہیں چلاتے اور نہ ہی ایسا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ٹاٹا سنز میں ٹرسٹس کی بڑی حصص داری ان کے خیراتی کاموں کے لیے بنیادی اثاثہ ہے۔ ٹاٹا سنز سے حاصل ہونے والے منافع کے ذریعے اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور تحقیقی سرگرمیوں سمیت مختلف فلاحی منصوبوں کو مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ اسی لیے ٹرسٹس کا کہنا ہے کہ اپنی حصص داری اور اس سے متعلق حقوق کا تحفظ کرنا ان کی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیل میں امریکی فوجی کمک بڑھانے کی تیاری

 اس معاملے نے ٹاٹا ٹرسٹس اور ٹاٹا سنز کے اندرونی نظم و نسق سے متعلق اختلافات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ایک طرف نول ٹاٹا کی قیادت میں ٹرسٹیز ٹاٹا سنز کو غیر فہرست شدہ رکھنے اور تنظیم نو کے ذریعے ضابطہ جاتی مسئلے کا حل تلاش کرنے پر زور دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب وینو سرینواسن اور وجے سنگھ نے فیصلہ سازی، مشاورت اور شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں۔
۱۷؍ ستمبر کو ٹاٹا سنز کے بورڈ اجلاس میں ہندوستانی ریزرو بینک کے خط پر غور کیا گیا تھا اور بورڈ نے صرف حصص بازار میں فہرست ہونے کے بجائے تمام ممکنہ راستوں کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا تھا۔ ٹرسٹیز کا کہنا ہے کہ ۲۸؍ ستمبر کی تنظیم نو کی تجویز اسی عمل کا حصہ ہے اور اس کا مقصد بورڈ کے اختیارات میں مداخلت کرنا نہیں بلکہ بورڈ کی درخواست پر متبادل راستہ تلاش کرنا ہے۔ اس طرح ٹاٹا سنز کی مجوزہ تنظیم نو اب صرف ایک کاروباری یا ضابطہ جاتی معاملہ نہیں رہی بلکہ اس نے ٹاٹا ٹرسٹس کے اندر فیصلہ سازی، ٹاٹا سنز کی مستقبل کی ملکیتی ساخت اور کمپنی کو غیر فہرست شدہ رکھنے کی پالیسی پر بھی اہم سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK