ناگپور : کہیں داخلہ نہ ملنے سے یوکرین سے واپس آنے والے طلبہ کی پریشانیوں میں اضافہ

Updated: September 08, 2022, 9:02 AM IST | nagpure

ان طلبہ کا پہلا سال ستمبر میں ختم ہو چکا ہے لیکن ’نیشنل کمیشن آف میڈیکل سائنسز‘ نے ابھی تک ان کا داخلہ بیرون ملک کسی دوسری یونیورسٹی میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے

Students who were happy to return from Ukraine are now worried
یوکرین سے واپس آکر خوش ہونے والے طلبہ اب پریشان ہیں

: روس اور یوکرین کے درمیان جنگ  کے نتیجے میں یوکرین میں زیر تعلیم  جوہندوستانی طلبہ وطن لوٹ آئےہیں،ان کی تعلیمی مشکلات میں بھی نت نئے موڑ آرہے ہیں۔ اگرچہ ان طلبہ کا پہلا سال ستمبر کے مہینے میں ختم ہو چکا ہے لیکن ’نیشنل کمیشن آف میڈیکل سائنسز‘ نے ابھی تک ان کا داخلہ بیرون ملک کسی دوسری یونیورسٹی میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔  دوسری جانب اب تک ان طلبہ کو ملک کی  کسی میڈیکل یونیورسٹی میں بھی ایڈجسٹ نہیں کیا جارہا ہے۔  ان حالات میں طلبہ اور والدین میں بے چینی کا ماحول ہے۔
  نیشنل میڈیکل کمیشن(این ایم سی)کے فارین میڈیکل گریجویٹ لائسنس(ایف ایم جی)۲۰۲۱ء   کے ضوابط کے مطابق۱۸؍ نومبر۲۰۲۱ء  کےیوکرین میں میڈیکل کورسیز کے پہلے سال  میں داخلہ لینے والے طلبہ کو بیرون ملک کسی دوسری یونیورسٹی میں داخلہ منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان طلبہ نے اپنے پہلے سال کا نصف سے زیادہ آف لائن اور باقی آن لائن مکمل کیا ہے۔اب ان کی دوسری مدت ستمبر میں ختم ہو رہی ہے۔ پہلے سال میں کوئی  پڑھائی  نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے آف لائن کلاسیز کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں کی۔ تاہم چونکہ دوسرے سال میں پریکٹیکل کورسیز ہوں گے اس لئے طلبہ کیلئے یونیورسٹیوں میں داخلہ لینا ضروری ہو گیا ہے لیکن روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جلد ختم ہونے  کے آثار نہیں ہیں۔ اس لیے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان طلبہ کو کم از کم جارجیا، کرغیزستان، قزاخستان اور پولینڈ وغیرہ ممالک میں داخلے کی اجازت دی جائے۔
 طلبہ کا مطالبہ کیا ہے؟
 یوکرین سے ہندوستان واپس آنے والے ناگپور کے طالب علم سوپنل دیوگڑے  کا کہنا ہےکہ ہمارا دوسرا سمسٹر اس ماہ  میںختم ہونے والا ہے۔ چونکہ دوسرے سال میں پریکٹیکل پڑھائی ہوگی اس لیے براہ راست یونیورسٹی میں داخلہ لینا ضروری ہوگیا ہے۔ چونکہ جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں اسلئے نیشنل میڈیکل کمیشن کو چاہئے کہ اسٹوڈنٹس کو دوسرے ممالک میں منتقلی کی اجازت دے۔ورنہ ہمارا سال ضائع ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک آزاد این جی او’دی پلیٹ فارم‘ نے این ایم سی کے صدر اور وزیر اعظم کو ایک مکتوب روانہ کرکے مطالبہ کیا کہ طلبہ کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی  جائے ۔
کمیشن کے فیصلے کا انتظار
 یوکرین سے لوٹنے والے طلبہ جن کی میڈیکل کورس کی تعلیم رُک چکی ہے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں تعلیم کا موقع ہندوستان میں فراہم کروایا جائے۔ تاہم، نومبر۲۰۲۱ء میں، حکومت  نے اپنے قوانین میں کچھ تبدیلیاں کیں جن کے تحت طلبہ کے لیے کسی ایک میڈیکل یونیورسٹی سے اپنی طبی تعلیم مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے طلبہ کا مستقبل اب نیشنل کمیشن فار میڈیکل سائنسز کے فیصلے پر منحصر ہے۔طلبہ کے حق کے لئے لڑ رہی این جی او ’پلیٹ فارم ‘ کے رکن راجیو کھوبراگڑے نے کہا کہ ہندوستان میں مناسب میڈیکل کالجوں کی کمی اور مہنگی تعلیم طلباء کو بیرون ملک منتقلی  کا انتخاب کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ میڈیکل کالجز کی تعداد میں اضافہ کرے۔ اس کے علاوہ، یوکرین کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے، حکومت کو قواعد میں نرمی کرنی چاہیے اور پہلے سال کے میڈیکل طلبہ کو دوسرے ممالک میں اپنا داخلہ منتقل کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔

ukraine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK