نمی، جن کا اصل نام نواب بانو تھا۔ ہندوستانی فلمی دنیا کی ایک نہایت معروف اور باوقار اداکارہ تھیں۔ نمی کو آج بھی ہندی سینما کی ابتدائی سنہری دورکی نمایاں اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نےایک ایسا معیار قائم کیا جس میں سادگی، جذبات اور حقیقی اداکاری شامل تھی۔ نمی نے۴۰ء اور۵۰ء کی دہائی میں اپنی معصوم اداکاری اور جذباتی کرداروں سے ناظرین کے دل جیتے۔
نمی کی اداکاری میں پختگی پائی جاتی تھی۔ تصویر:آئی این این
نمی، جن کا اصل نام نواب بانو تھا۔ ہندستانی فلمی دنیا کی ایک نہایت معروف اور باوقار اداکارہ تھیں۔ نمی کو آج بھی ہندی سینما کی ابتدائی سنہری دورکی نمایاں اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نےایک ایسا معیار قائم کیا جس میں سادگی، جذبات اور حقیقی اداکاری شامل تھی۔ نمی نے۴۰ء اور۵۰ء کی دہائی میں اپنی معصوم اداکاری اور جذباتی کرداروں سے ناظرین کے دل جیتے۔ ان کے والد عبدالحکیم انگریزی فوج کے ٹھیکے دار تھے۔ والدہ کا نام وحیدن تھا، جو اپنے وقت کی معروف گلوکارہ تھیں اور فلموں میں کام بھی کر لیتی تھیں۔ نمی کی پیدائش۱۸؍فروری ۱۹۳۳ءکوآگرہ میںہوئی۔ ان کے والد عبدالحکیم ایبٹ آباد (پاکستان) کے رہنے والے تھے۔ وحیدن بمبئی کی فلم انڈسٹری میں خاصا اثر و رسوخ رکھتی تھیں، خاص طور پر ان کے خاندان کے تعلقات ہدایت کار محبوب خان کے ساتھ کافی اچھے تھے۔
راج کپور کی فلم ’برسات‘ نمی کی پہلی فلم ثابت ہوئی۔برسات کے بعد نمی کو بالی وڈ کے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جن میں اشوک کمار کے ساتھ بھائی بھائی راج کپور کے ساتھ باورا، دیوآنند کے ساتھ سزا اور آندھیاں، دلیپ کمار کے ساتھ دیدار (۱۹۵۱ء)،داغ (۱۹۵۲ء) اور آن (۱۹۵۲ء)میں کام کیا۔ نرگس کے علاوہ امرمیں مدھوبالا،شمع میں ثریا، اوشا کرن ،گیتا بالی اور چار دل، چار راہیں(۱۹۵۹ء)میں مینا کماری کے ساتھ کام کیا اور ان سبھی بڑی اداکارؤں کےدرمیان نمی نے اپنی صلاحیت تسلیم کرائی۔ ایک بات جو بہت کم لوگ جانتےہیںکہ نمی بہت اچھی گلوکارہ بھی تھیں تاہم انہوں نے اپنی اس صلاحیت کو فلم ’بیدردی‘ (۱۹۵۱ء)کے ایک گانے کے سوا کبھی اجاگر کرنے کی کوشش نہیں کی۔ فلم ’بیدردی‘میں ان کا گایا ہوا گانا ان ہی پر فلمایا گیا ہے۔
نمی نے ۱۹۵۴ءمیں’ڈنکا‘کے نام سے ایک فلم پروڈیوس بھی کی، یہ فلم کافی کامیاب رہی اور اس میں بھی ان کی پرفارمنس اعلیٰ قرار پائی۔ ۱۹۵۵ءمیںسہراب مووی نے’کندن‘کے نام سے ایک فلم بنائی جو شہرۂ آفاق ناول لا مسریبل پر مبنی تھی۔ اس میں سہراب مووی نے ایک نئے اداکار سنیل دت کو متعارف کرایا۔ اس میں نمی نے دوہرے کردار ادا کئے تھے، یعنی ماں اور بیٹی۔ یہاں بھی نمی نے اپنے فن کا لوہا منوایا۔ ۱۹۵۷ءمیں جب ان کی عمر محض ۲۴؍سال تھی، انہیں بھائی بھائی میں ان کی کردار نگاری کے لیے کرٹک ایورڈپیش کیا گیا۔ بعد کے برسوں میں نمی بہت سلیکٹیوہو گئیں۔ ان کے بعض فیصلے تو درست رہے تاہم بعض فیصلوں نے انہیں ناقابلِ تلافی نقصان بھی پہنچایا۔ مثلاً ۱۹۶۳ءمیں ’میرے محبوب‘ہدایت کار اور رائٹرہرمن سنگھ رویل نے بہت بڑے بجٹ کے ساتھ بنانےکا پروگرام بنایا۔ اس میں نمی کو مرکزی کردار کی پیش کش ہوئی لیکن انہوں نے اپنے لیے ثانوی کردار کا انتخاب کیا۔ ان کے خیال میں اس کردار میں وہ زیادہ اچھی پرفارمنس دےپائیں گی۔ یہ مرکزی کردار بعد میں نسبتاً نئی اداکارہ سادھنا کو دیا گیا اور جس کردار کے لیےسادھنا تجویز کی گئی تھیں، وہ نمی نے کیا۔ ان کے خیال کے برعکس ان کا کردار وہ تاثر نہ پیدا کر سکا جس کے لیے نمی فلم بینوں کے دلوں پر راج کر رہی تھیں۔ ہر چندکہ انہیں فلم فیئر کا ایوارڈ بہترین معاون اداکارہ کا ملا لیکن اس کے بعد ۱۹۶۰ءکی دہائی سادھنا ، نندا، آشا پاریکھ، مالا سنہا اور سائرہ بانو کے نام رہی۔ ان اداکاراؤں نے ہندی فلموں کی ہیروئن کےتصورکو تبدیل کردیا۔ یہ فلم میں بے باک ہیروئنوں کے دور کا آغاز تھا۔ نمی ۲۵؍مارچ ۲۰۲۰ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گئیں اور ایک سنہری دور ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا۔