Updated: October 28, 2026, 6:05 PM IST
| New Delhi
نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے معروف بالی ووڈ اداکار نصیرالدین شاہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاجی طلبہ کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے فیس بک پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں خود کو فخر کے ساتھ ’دماغی نکسل‘ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
نصیر الدین شاہ۔ تصویر:آئی این این
نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے معروف بالی ووڈ اداکار نصیرالدین شاہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاجی طلبہ کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے فیس بک پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں خود کو فخر کے ساتھ ’دماغی نکسل‘ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اداکار نے کہا کہ حکومت کے ناقدین کو کبھی ملک مخالف، کبھی ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ اور کبھی دوسرے القابات سے پکارا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، اگر ملک میں کوئی ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ ہے تو وہ حکومت ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین پیرا گیمز کے تین مرتبہ طلائی تمغہ جیتنے والے نیرج یادو نے خودکشی کی
نصیرالدین شاہ نے سوال اٹھایا کہ ملک کے نوجوانوں کا حوصلہ توڑنے، تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے مزید کیا کیا جائے گا۔ انہوں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، کولکاتا کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ سے متعلق تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والے مبینہ سلوک کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ تنظیم کے انتخابات بحال کرنے کے مطالبے پر احتجاج جاری ہے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ طلبہ یونین کے انتخابات دوبارہ شروع کرائے جائیں، چیف پراکٹر کو عہدے سے ہٹایا جائے اور احتجاج میں حصہ لینے والے طلبہ کے خلاف کی گئی تادیبی کارروائی واپس لی جائے۔ اطلاعات کے مطابق، بعض طلبہ نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے بھوک ہڑتال بھی شروع کر رکھی ہے۔ جامعہ کی طلبہ یونین کے انتخابات ۲۰۰۶ء میں ختم ہوگئے تھے، اور طلبہ اب ان کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی وی سیریل ’’سی آئی ڈی ‘‘ کے پروڈیوسر بی پی سنگھ ۷۷؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے
نصیرالدین شاہ نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ جامعہ کے طلبہ کے ساتھ مبینہ طور پر جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ جمہوریت اور تعلیمی اداروں کی آزادی سے متعلق سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے ماضی میں جے این یو اور ستیہ جیت رے فلم انسٹی ٹیوٹ میں طلبہ کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کی کوششوں کو یاد رکھا جائے گا۔ اداکار نے حکومت کے حامیوں اور ناقدین کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی پر بھی طنز کیا اور کہا کہ محض القابات دینے سے اختلافِ رائے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
نصیرالدین شاہ کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی ردعمل سامنے آیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان گورو بھاٹیا نے فلم ’سرفروش‘ کے کرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے اداکار پر طنز کیا۔ اس طرح جامعہ کے احتجاج اور شاہ کے بیان نے طلبہ کے حقوق، حکومت پر تنقید اور تعلیمی اداروں میں اختلافِ رائے کی آزادی سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ نصیرالدین شاہ ہندوستانی فلمی دنیا کے ان فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جو سماجی اور سیاسی معاملات پر کھل کر اپنی رائے دیتے رہے ہیں۔ جامعہ کے احتجاج پر ان کا تازہ بیان ایک بار پھر اس بحث کو مرکزِ توجہ بنا رہا ہے کہ طلبہ کو اپنے مطالبات پیش کرنے اور حکومت یا انتظامیہ سے سوال کرنے کا کتنا حق حاصل ہونا چاہیے۔ تاہم، احتجاج سے متعلق مختلف فریقوں کے مؤقف اور الزامات کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے ان کی الگ الگ تصدیق ضروری ہے۔