۳۰؍ستمبر کی رات پیش آنیوالے معاملے میں ۶؍افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ۲ء۷۵؍لاکھ روپے مالیت کے درختوں کو کاٹنے کاسودا صرف۱۰؍ ہزار میں طے ہوا۔
EPAPER
Updated: September 20, 2026, 10:45 AM IST | Nashik
۳۰؍ستمبر کی رات پیش آنیوالے معاملے میں ۶؍افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ۲ء۷۵؍لاکھ روپے مالیت کے درختوں کو کاٹنے کاسودا صرف۱۰؍ ہزار میں طے ہوا۔
درختوں کی غیرقانونی کٹائی کے ایک معاملے پر ہنگامہ مچ گیا ہے۔ شہر کے گنگاپور روڈ پر راتوں رات۵۵؍ درخت کاٹنے کے معاملے میں ایک چونکا دینے والا پہلو سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ اسٹریٹ لائٹس پر لگے اشتہاری ہوڈنگز کے سامنے آنے والے درختوں کو ہٹانے کےلئے صرف۱۰؍ ہزار روپے دیے گئے۔ پولیس نے ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے ڈائریکٹر سمیت۶؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ عدالت نے تمام ملزمین کو۵؍ دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔
ٹی وی نائن مراٹھی کی ایک رپورٹ کے مطابق ناسک کے گنگاپور روڈ پر درختوں کی کٹائی کے معاملے نے اب نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ جہان سرکل اور بینڈکولے نگر کے درمیان ڈیوائیڈر پر لگے۵۵؍ درختوں کو راتوں رات کاٹ دیا گیا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد گنگاپور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی اور تفتیش شروع کی گئی۔
ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ یہ درخت اسٹریٹ لائٹس پر لگے ڈبل اشتہاری ہوڈنگز اور سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں کے درمیان آ رہے تھے۔ الزام ہے کہ ہوڈنگز واضح طور پر نظر آئیں، اس لئے درختوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ مبینہ طور پر ان درختوں کو کاٹنے کے لیے صرف۱۰؍ ہزار روپے دیے گئے۔ جبکہ ان درختوں کی مجموعی قیمت تقریباًپونے تین لاکھ روپے بتائی جارہی ہے۔ جن درختوں کو کاٹا گیا، ان کی عمر تقریباً۸؍ سے۱۲؍سال بتائی گئی ہے۔ یہ درخت گنگاپور روڈ کے ڈیوائیڈر پر لگائے گئے تھے۔ ان کا مقصد سڑک پر سایہ فراہم کرنے کے ساتھ علاقے کی خوبصورتی برقرار رکھنا تھا۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق اشتہاری بورڈز واضح طور پر نظر نہ آنے کی وجہ سے درختوں کو ہٹانے کی بات سامنے آئی ہے۔ پولیس اسی پہلو سے پورے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
شری کانت ایرناک کی شکایت کی بنیاد پر گنگاپور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تفتیش کے دوران ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے وابستہ افراد کا کردار سامنے آیا ہے۔ مشتبہ ملزم مچھندر دیشمکھ کو ایک نجی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا ڈائریکٹر بتایا گیا ہے۔ یہ ایجنسی میونسپل کارپوریشن اور دیگر نجی اداروں کے اشتہارات کا کام کرتی ہے۔ الزام ہے کہ مچھندر دیشمکھ نے ابھیمنیو کھیرنار کو اپنے اشتہاری ہوڈنگز کے راستے میں آنے والے درختوں کو ہٹانے کے لئے ۱۰؍ہزار روپےدیے تھے۔ پولیس کی تفتیش کے مطابق یہ درخت۳۰؍ اگست کی علی الصبح تقریباً۲؍بجے سے ۳ء۴۵؍بجے کے درمیان کاٹے گئے۔
خیال رہے کہ درختوں کی کٹائی کا یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ناسک کمبھ میلے کے ترقیاتی کاموں کیلئے درختوں کی کٹائی کو لے کر پہلے ہی تنازع جاری ہے۔ یہ معاملہ نیشنل گرین ٹریبونل(این جی ٹی) اور ہائی کورٹ تک بھی پہنچ چکا ہے۔ ایسے میں گنگاپور روڈ پر رات کے اندھیرے میں بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی نے ایک الگ سوال کھڑا کر دیا ہے۔ پولیس اب یہ معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ درختوں کو کس کے حکم پر کاٹا گیا اور اس پوری کارروائی میں کون کون ملوث تھا۔
ایڈوٹائزنگ ایجنسی کا ڈائریکٹر گرفتار
اس معاملے میں ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے ڈائریکٹر مچھندر دیشمکھ، ابھیمنیو کھیرنار اور ان کے چار دیگر ساتھیوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ملزمین کے خلاف بی این ایس کی دفعات کے علاوہ مہاراشٹر (اربن ایریا) پروٹیکشن اینڈ پریزرویشن آف ٹریز ایکٹ۲۰۲۱ء کی دفعہ۲۱-۱، انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ۱۵؍اورپریونشن آف ڈیمیج ٹو پبلک پراپرٹی ایکٹ۱۹۸۴ء کی دفعہ۳؍کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں ۵؍دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔