Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناسک ٹی سی ایس گرفتاریاں: معاشقے میں بگاڑ آنے پرہوئے جھگڑے کوالگ رنگ دیا گیا

Updated: April 15, 2026, 11:59 PM IST | Nashik

حال ہی میں خبر آئی تھی کہ ناسک میں واقع ٹاٹا کنسلٹنسی کے بی پی او میں کام کرنے والے ۸؍ ملازمین کو خواتین کے جنسی استحصال اور ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

Suspects arrested from office
دفتر سے گرفتار کئے گئے ملزمین

حال ہی میں خبر آئی تھی کہ ناسک میں واقع ٹاٹا کنسلٹنسی کے بی پی او میں کام کرنے والے ۸؍ ملازمین کو خواتین کے جنسی استحصال اور ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔  ان میں ۲؍ خواتین بھی شامل ہے۔ ان تمام لوگوں کو کمپنی سے نکال دیا گیا ہے۔اس پر ہندوتوا وادی تنظیموں نے ’ لوجہاد ‘ کا شوشہ چھوڑ کر ہنگامہ بھی مچایا لیکن گرفتار کئے گئے ملازمین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ویسا نہیں ہے جیسا میڈیا میں دکھایا جا رہا ہےبلکہ دفتر میں کام کرنے والی ایک لڑکی نے اپنے معاشقہ میں بگاڑ پیدا ہونے کے بعد دانش شیخ نامی نوجوان کو پھنسانے کیلئے یہ الزامات عائد کئے ہیں جس میں دیگر لوگوں کو بھی شامل کرلیا گیا۔
  اس تعلق سے انڈین ایکسپریس نے ایک رپورٹ شائع کی ہے ۔ رپورٹ میں گرفتار کئے گئے ایک ملازم کی اہلیہ نے نام نہ لکھنے کی شرط پر کہا ہے کہ ’’شکایت کنندہ خاتون کا دانش شیخ نامی نوجوان سے معاشقہ تھا۔ اس تعلق سے کمپنی میں کئی لوگوں کو معلوم تھا۔ میرے شوہر نے مجھے بتایا تھا کہ وہ خاتون اپنا کام ختم ہوجانے کےبعد بھی دانش کا گھنٹوںانتظار کیا کرتی تھی۔ ‘‘ خاتون نے آگے بتایا’’ دانش سے قربت حاصل کرنے کیلئے اس نے رمضان میں روزے بھی رکھے تھے۔ اور ویسا( اسلامی) لباس پہننا شروع کیا تھا۔اسکے والدین کو اس بات پر سخت اعتراض تھا۔‘‘ انہوں نے بتایا ’’فروری میں دانش اور شکایت کنندہ خاتون کا جھگڑا ہو گیا  جسکے بعد اس کے ماں باپ ایک مقامی لیڈر کے پاس گئے جس نے خاتون کو پولیس میں شکایت درج کروانے پر آمادہ کیا۔ اس پورے معاملےسے میرے شوہر اور دیگر کچھ لوگوں کا کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔  
 خاتون نے آگے بتایا ’’ مارچ کے آخری ہفتے میں جب دانش کے خلاف کی گئی ایف آئی آر پر جانچ جاری تھی تو میرے شوہر چھٹی پر تھے۔ انہیں اچانک چھٹی پر سے واپس بلالیا گیا۔ میرے شوہر اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ لہٰذا ان کا دانش سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ ان کے درمیان صرف محدود دفتری گفتگو ہوتی تھی۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’یکم اپریل کو فون کرکے میرے شوہر سے کہا کہ ہم نے دانش کے خلاف جانچ مکمل کرلی ہے۔ چونکہ آپ کمپنی کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اسلئے آپ کے دستخط چاہئے۔ ہمارے گھر میں تقریب تھی اسکے باوجود میرے شوہر شام ساڑھے ۶؍ بجے پولیس اسٹیشن گئے۔کچھ گھنٹوں بعد میں نے انہیں فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ ممبئی ناکہ پولیس اسٹیشن میں اور بھی کچھ لوگوں کو بلایا گیا ہے۔ میں کچھ دیر میں آجائوں گا لیکن جب رات ساڑھے ۱۱؍ بجے میں نے دوبارہ فون کیا تو بتایا گیا کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ‘‘ 
 خاتون کے مطابق ’’ میں فوراً پولیس اسٹیشن پہنچی اور پولیس کا بتایا کہ میرے شوہر کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن پولیس کا کہنا تھا کہ دانش کے خلاف درج ایف آئی آر کے علاوہ ، کچھ اور خواتین کی جانب سے کی گئی شکایت بھی درج کی گئی ہے جس میں میرے شوہر کا بھی نام ہے۔ اس لئے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘ خاتون کا کہنا تھا ’’ ہماری ۱۱؍ سال کی بیٹی ہے اور ۶؍ ماہ کا بیٹا ہے۔ ایسی صورت میں میرے شوہر کسی اور خاتون کو تکلیف کیوں دیں گے؟ میرے شوہر تو ٹفن میں صرف اس لئے سبزی ترکاری لے جاتے تھے کہ اگر گوشت لے گئے تو دفتر کے دیگر لوگوں کو تکلیف ہوگی۔ ایسا شخص کسی اور کے مذہب کو برا کیسے کہہ سکتا ہے؟ ‘‘ مذکورہ ملازم کے چچا نے بتایا کہ ان کے بھتیجے کی کمپنی میں فروری دانش اور ایک لڑکی کے درمیان ہوئے جھگڑے کا علم انہیں بھی تھالیکن اس میں دیگر لوگوں کو بھی ملزم بنایا گیا۔  

nashik Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK