۸؍ لوگوں پر کمپنی کے ملازمین کا مذہب تبدیل کروانے کا الزام، ۶؍ گرفتار۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 10:57 AM IST | Mumbai
۸؍ لوگوں پر کمپنی کے ملازمین کا مذہب تبدیل کروانے کا الزام، ۶؍ گرفتار۔
ناسک کی ایک مشہور آئی ٹی کمپنی میں نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال اور ان کے مذہب کی جبراً تبدیلی کے الزام میں گرفتاریوں کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ مذہب تبدیل کرنے والے متاثرہ نوجوان کی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں اور الزام لگایا گیا ہے کہ اس پر مخصوص لباس پہننے اور مذہبی رسومات کی پیروی کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں کیس درج کرلیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔
اس واقعہ نے ناسک میں ہلچل مچا دی ہے۔ناسک کی ایک آئی ٹی کمپنی میں جنسی استحصال اور مذہب کی تبدیلی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ الزام ہے کہ اسی کمپنی کے ایک نوجوان کو مشتبہ ملزمین نے زبردستی مذہب تبدیل کروایا۔ شکایت کی گئی ہے کہ ملزمین توصیف عطار، دانش، شاہ رخ شیخ اور رضا میمن نے ہندو نوجوانوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ الزام ہے کہ کمپنی میں ہندو نوجوانوں کو دوپہر کے وقت نماز پڑھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ شکایت میں ہندو نوجوان کو گائے کا گوشت کھلایا جانے کا بھی ذکر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مساجوگ سرپنچ الیکشن میں ایک اور امیدوار میدان میں اترا
ہندو نوجوان کی تبدیلی مذہب کے بعد کی تصاویر منظر عام پر آگئی ہیں۔ناسک کی ایک معروف آئی ٹی کمپنی میں جنسی استحصال کے معاملے میں۸؍ میں سے ۶؍ ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دو خاتون ملزمین فرار بتائی جا رہی ہیں۔ اس کمپنی کی آپریشنل منیجر اور ایک خاتون ملزم مفرور ہیں۔ متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ خاتون آپریشنل منیجر سے مذہب کی تبدیلی کی شکایت کی گئی تھی لیکن اس نے نظر انداز کیا۔ ناسک پولیس نے دونوں خواتین کی تلاش کیلئے ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔ ناسک پولیس میں اب تک خواتین ملازمین کے استحصال اور ذہنی طور پر ہراساں کرنے کے ۹؍ معاملے درج کئے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس سندیپ مٹکے کو اس معاملے کی جانچ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ فرنویس نے اس معاملے کی گہری تفتیش اورسخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔