Updated: March 21, 2026, 9:07 PM IST
| Berlin
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران عالمی اتحاد اور فوجی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ نیٹو نے سیکوریٹی خدشات کے پیش نظر عراق سے اپنے اہلکاروں کو یورپ منتقل کر دیا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو ایران کے خلاف حملوں کیلئے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اسی دوران رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
(۱) نیٹو نے عراق سے اہلکاروں کو یورپ منتقل کر دیا
نیٹو نے اعلان کیا ہے کہ اس نے احتیاطی اقدام کے طور پر عراق میں اپنے مشن سے تمام اہلکاروں کو یورپ منتقل کر دیا ہے۔ نیٹو حکام نے کہا کہ ’’یہ فیصلہ سیکوریٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ اہلکاروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ’’ہم صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور ضرورت کے مطابق اقدامات کریں گے۔‘‘ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور فوجی تنصیبات خطرے میں ہیں۔
(۲) برطانیہ نے امریکہ کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی
برطانیہ نے امریکہ کو ایران کے خلاف حملوں کیلئے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے، خصوصاً ان اہداف کیلئے جو آبنائے ہرمز سے متعلق ہیں۔ برطانوی حکام کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کے تحت کیا گیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سیکوریٹی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اجازت جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر سکتی ہے۔
(۳) سعودی عرب اور یو اے ای امریکہ اسرائیل جنگ کے قریب
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے موقف کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک علاقائی ذریعے نے کہا کہ ’’موجودہ صورتحال میں اتحاد مضبوط ہو رہا ہے اور مشترکہ اقدامات زیر غور ہیں۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ دفاعی تعاون کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطہ جنگ کے اثرات سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔