• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی: ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ۶ء۵۸؍ لاکھ ووٹروں کے نام غائب، منسوخی کا مطالبہ

Updated: September 09, 2026, 10:22 PM IST | New Delhi

دہلی کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ۶ء۵۸؍ ؍ لاکھ ووٹروں کے نام غائب کردئے گئے ہیں، جس کے بعد ایس آئی آرکو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے، پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس ریلیز اور مطالبہ نامہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کی تنظیم نے کہا کہ ۳۱؍ اگست ۲۰۲۶؍ کو جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ عمل شہریوں کو نظام سے باہر کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ووٹر ادھیکار منچ نے دہلی میں ایس آئی آرکے عمل کو مکمل طور پر واپس لینے اور ۲۰۲۵ء کے اسمبلی انتخابات کی ووٹر لسٹ کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ اس مہم کے دوران اور اس سے پہلے جس طرح بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام کاٹے گئے ہیںوہ جمہوری نظام اور ووٹ دینے کے بنیادی حق پر ایک منظم اور ادارہ جاتی حملہ ہے۔پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس ریلیز اور مطالبہ نامہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کی تنظیم نے کہا کہ ۳۱؍ اگست ۲۰۲۶ء کو جاری کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ عمل شہریوں کو نظام سے باہر کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے، جو اپنے ہی اس مقصد میں ناکام ہو گئی ہے کہ ’’ کوئی بھی اہل شہری چھوٹنے نہ پائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر کی مسلم اکثریتی نشستوں میں ۳۰؍ فیصد ووٹروں کا نام آگے منتقل نہیں کیا گیا

 تنظیم کے مطابق، ۳۱؍ جنوری ۲۰۲۵؍ کو دہلی کی ووٹر لسٹ میں ایک کروڑ ۵۶؍ لاکھ ۱۴؍ ہزار سے زائد ووٹرز درج تھے، لیکن نئی ڈرافٹ لسٹ میں یہ تعداد گھٹ کر صرف ۹۷؍لاکھ ۵۳؍ ہزار ۵۷۷؍  کے قریب رہ گئی ہےیعنی تقریباً ۵۸؍ لاکھ۶۰؍ ہزار ۴۲۳؍ ووٹرز کے نام کم ہو گئے ہیں۔ ان میں سے ۱۱؍ لاکھ۳؍ ہزار ۷۰۱؍ سے زیادہ نام ایس آئی آرکا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی کاٹ دیئے گئے تھے، جبکہ تقریباً ۴۷؍ لاکھ ۵۶؍ ہزار ۷۲۲؍  ووٹرز کو غیر حاضر، منتقل شدہ، متوفی کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔
ووٹر ادھیکار منچ نے دہلی کے محنت کش اور کچی آبادیوں والے علاقوں میں ہیلپ لائنز اور امدادی ڈیسک قائم کئےہیں۔ تنظیم کے مطابق، میدانِ عمل میں کام کے دوران ایسے متعدد معاملے سامنے آئے ہیں جہاں زندہ انسانوں کو ووٹر لسٹ میں ’’مردہ‘‘ قرار دے دیا گیا، اپنے گھروں میں مسلسل مقیم لوگوں کو ’’مستقل منتقل شدہ‘‘ درج کر دیا گیااور کئی افراد کے فارم جمع کرانے کے باوجود ان کے نام فہرست سے غائب کر دیئے گئے۔ مزید برآںتجزیے سے معلوم ہوا کہ اپریل ۲۰۲۶ء کے صرف ایک مہینے میں ۳؍ لاکھ ۳۹؍ ہزار ۵۰۹؍ سے زیادہ ووٹرز کے نام کاٹے گئے، جو پچھلے چھ مہینوں کے اوسط کا تقریباً ۲۰؍ گنا ہے۔
واضح رہے کہ دہلی کے ۷۰؍ میں سے ۶۸؍ حلقوں میں کاٹے گئے ووٹرز کی تعداد ۲۰۲۵ء کے انتخابات کی جیت کے مارجن سے بھی زیادہ ہے۔سیاسی لیڈر یوگیندر یادو نے ان بڑے پیمانے کی کٹوتیوں کی مجرمانہ سازش کے طور پر تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معمولی بات نہیں ہے اور اس کا مقصد شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا ہے۔ دوسری طرف، شفافیت کیلئےکام کرنے والی سماجی کارکن انجلی بھاردواج نے الیکشن کمیشن کی جوابدہی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اگر ووٹر لسٹ میں اتنی غلطیاں تھیں تو پھر ۲۰۲۵ءکے اسمبلی انتخابات کے نتائج کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟

یہ بھی پڑھئے: منی پور کے موسیقار’ سی وکرم سنگھ‘ کے قتل پر اپوزیشن سخت برہم

اس کے علاوہ سینئر وکیل شادان فراست نے شہریت کی تصدیق کیلئے ۲۰۰۲ء-۰۳ء کی ووٹر لسٹوں کے استعمال کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ اس سے نظام میں بے تحاشا من مانی پھیل گئی ہے۔ جبکہ نیشنل فیڈریشن آف انڈین وومن کی قومی نائب صدر کونینیکا رائے نے ہر پولنگ بوتھ پر ووٹر لسٹوں کے سوشل آڈٹ کا مطالبہ کیا۔تنظیم نے کئی متاثرہ افراد کی مثالیں پیش کیں، جن میں منگول پوری کے کانتا پرساد اور جگدمبا کیمپ کی۷۱؍ سالہ ورما شامل ہیں، جنہیں زندہ ہونے کے باوجود لسٹ میں مردہ درج کر دیا گیاہے۔ اسی طرح کچی آبادیوں کی مسماری سے متاثرہ افراد، شادی شدہ خواتین جن کے نام میکے سے کاٹ دیئے گئے۔ اس کے علاوہ، ووٹرز کے شناختی کارڈ اور آدھار میں نام کی اسپیلنگ کے معمولی فرق کی وجہ سے بھی کئی لوگوں کے فارم رد کر دئیے گئےہیں۔
دریں اثناءووٹر ادھیکار منچ نے مطالبہ کیا ہے کہ غلط طریقے سے کاٹے گئے تمام ووٹرز کے نام بغیر کسی شرط کے اور بغیر نیا فارم ۶؍ بھرے خود بخود بحال کئے جائیں۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ پہلے سے رجسٹرڈ ووٹرز سے نیا فارم بھروانا انہیں غلط بیانی پر مجبور کرنے کے مترادف ہے کیونکہ اس میں ماضی میں رجسٹرڈ نہ ہونے کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ دعوے اور اعتراضات جمع کرانے کی مدت میں کم از کم ایک ماہ کی توسیع کی جائے، اور کسی بھی ووٹر کا نام بغیر نوٹس اور ذاتی سماعت کے نہ کاٹا جائے۔ تنظیم نے زور دیا کہ جب تک تمام پولنگ بوتھوں پر شفاف اور جامع نظرِ ثانی نہیں ہوتی تب تک اس ووٹر لسٹ کو منسوخ کر کے ۲۰۲۵ء والی ووٹر لسٹ کے مطابق ہی تمام کارروائی کی جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK