• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسام: زمین کے دستاویز ہونے کے باوجود مسلمانوں کے ۷۳؍مکانات منہدم

Updated: September 09, 2026, 10:02 PM IST | Guwahati

آسام کے مسلم اکثریتی ضلع گولپارہ میں زمین کے دستاویز ہونے کے باوجود مسلمانوں کے ۷۳؍ مکانات منہدم کردئے گئے، انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ مکانات زرعی مقاصد کیلئے مخصوص زمین پر بغیر کسی اجازت کے تعمیر کئے گئے تھے، تاہم اس کے خلاف مقامی لوگوں نے احتجاج کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

آسام کے ضلع گولپارہ میںانتظامیہ نے پیر کو کرشنائی علاقے میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ۷۳؍ مکانات کو مسمار کر دیا۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ مکانات زرعی مقاصد کیلئے مخصوص زمین پر بغیر کسی اجازت کے تعمیر کئے گئے تھے۔ یہ کارروائی علاقے کے پانچ گاؤں،خارجیہ پائکان، کھمر مانکپور، بھوجملا پارٹ ۲؍، جتشر باڑی اور تینگا باڑی میں کی گئی، جہاں تعمیرات کو ہٹانے کیلئے بلڈوزروں اور جے سی بی مشینوں کا استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر کی مسلم اکثریتی نشستوں میں ۳۰؍ فیصد ووٹروں کا نام آگے منتقل نہیں کیا گیا

بعد ازاں ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ رہائشیوں نے زمین کی نوعیت کو زرعی سے رہائشی میں تبدیل کرانے کی باقاعدہ منظوری حاصل کئے بغیرہی اپنے گھر تعمیر کر لئےتھے۔ گولپارہ کے ڈسٹرکٹ کمشنر پردیپ تیمونگ نے بتایا کہ اس کارروائی کا بنیادی مقصد زرعی زمین، آبی ذخائر اور قدرتی نالوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پوری زمین زرعی استعمال کیلئے تھی، لیکن لوگ راتوں رات یہاں آ کر بسنے لگے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مکانات کی تعمیر سے پانی کا قدرتی بہاؤ متاثر ہو رہا تھا اور پانی کے ذرائع سکڑ رہے تھے۔ انتظامیہ کے مطابق، مٹیا ریونیو سرکل آفیسر کے ذریعے تمام رہائشیوں کو ۲۴؍ گھنٹے کے اندر جگہ خالی کرنے اور تعمیرات ہٹانے کے نوٹس دیئےگئے تھے، لیکن مقررہ وقت کے اندر کسی بھی خاندان نے جگہ خالی نہیں کی۔
دوسری جانب مقامی لوگوں اور اقلیتی تنظیموں نےاس کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ افراد کے پاس اپنی زمین کی ملکیت کے باقاعدہ کاغذات موجود تھے۔ نارتھ ایسٹ مائنارٹی اسٹوڈنٹس یونین کے ایگزیکٹو صدر نور الاسلام نے کہا کہ جن خاندانوں کے مکانات گرائے گئے ہیں، وہ کسی سرکاری زمین پر نہیں بلکہ اپنی ذاتی ملکیت والے پلاٹوں پر رہ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جن کے گھر مسمار کئے گئے وہ اپنی زمین پر آباد تھے اور ان کے پاس تمام ضروری دستاویزات موجود تھے۔ وہ زمین کوئی سرکاری جائداد نہیں تھی۔ ان کا واحد مسئلہ یہ تھا کہ وہ زمین کاغذات میں زرعی کے طور پر درج تھی۔‘‘انہوں نے حکومت سے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے اور اس طرح کی مہمات پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی۔

یہ بھی پڑھئے: مظفرنگر فسادات کے ۱۳؍ سال بعد پراسرار پوسٹر، چسپاں کرنے والوں کی تلاش جاری

اسی طرح مسلم اسٹوڈنٹس یونین آف آسام کے صدر عاشق ربانی نے بھی اس کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپنی ہی زرعی زمین پر گھر بنا لینے کو کوئی جرم نہیں سمجھا جانا چاہیے جس کی ایسی سزا دی جائے۔‘‘تاہم ڈسٹرکٹ کمشنر پردیپ تیمونگ نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا کہ یہ کارروائی خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے سروے کے مطابق یہاں آباد ہونے والے لوگ چارمختلف اضلاع جیسے درنگ، بارپیٹا، دھوبری اور مانکاسے آ کر بسے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’یہ معاملہ ہندو مسلم کا نہیں ہے‘‘ بلکہ خود کچھ مسلم رہائشیوں نے زرعی زمین پر مکانات کی اس طرح کی تعمیرات کی شکایت کی تھی۔ واضح رہے کہ آسام میں اس طرح کی مہمات مسلسل جاری ہیں، اس سے قبل نومبر ۲۰۲۵ء میں بھی گولپارہ انتظامیہ نے دہی کاٹا کے علاقے میں جنگلاتی زمین سے مبینہ قبضے ہٹانے کیلئے ایک بڑی مہم چلائی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK