Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتو سنگھ نے چائلڈ آرٹسٹ سے معاون کرداروں تک رول ادا کئے

Updated: July 08, 2026, 11:03 AM IST | Agency | Mumbai

بالی ووڈ میں نیتو سنگھ کا شمار ایسی اداکاراؤں میں ہوتاہے جنہوں نے۷۰؍اور۸۰؍کی دہائی میں اپنے کول اسٹائل اور با اثر اداکاری سے فلم بینوں کواپنا دیوانہ بنایا۔

Neetu Singh.Photo:INN
نیتو سنگھ۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ میں نیتو سنگھ کا شمار ایسی اداکارہ کے طورپرکیا جاتا ہے جنہوںنے۷۰؍اور۸۰؍کی دہائی میں اپنے کول اسٹائل اور با اثر اداکاری سے فلم بینوں کواپنا دیوانہ بنایا۔۸؍جولائی۱۹۵۸ءکوپیدا ہونےوالی نیتو سنگھ کورقص میں کافی دلچسپی تھی۔ان کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ان کی ماں راجی سنگھ نےانہیں مشہور اداکارہ وجینتی مالا کے رقص اسکول میںرقص سیکھنے کی اجازت دے دی۔ رقص سیکھنے کے دوران وجینتی مالا ان کےرقص کے انداز سے بہت متاثرہوئیں اور انہوں نے نیتوکو اپنی فلم ’سورج‘ میں چائلڈ آرٹسٹ کےطور پر کام کرنے کی پیشکش کی،جسے انہوں نے بخوشی قبول کر لیا۔۶۰ءکی دہائی میں نیتو سنگھ نےکئی فلموںمیں چائلڈ اسٹار کے طور پر کام کیاجن میں۱۰؍لاکھ، دو دونی چار، وارث ، گھر گھر کی کہانی ، پوتر پاپی اور۱۹۶۸ءمیں آئی فلم ’دو کلیاں‘قابل ذکر ہیں۔ دو کلیاں میں نیتو نے دوہرے کردار ادا کیے تھےجسے شائقین نے کافی پسند کیا۔ فلم میں ان پر فلمایاگایانغمہ ’بچے من کےسچے ‘ناظرین اور سامعین کے درمیان آج بھی کافی مقبول ہے۔نیتوسنگھ نے مکمل اداکارہ کے طور پر اپنے فلمی کریئر کا آغاز ۱۹۷۳ءکی فلم’رکشاوالا‘ سے کیا۔ اس فلم میںان کے ہیرو کے طور پر رندھیر کپورتھے۔کمزورا سکرپٹ اور ہدایت کاری کی وجہ سے فلم باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئی۔
 
 
نیتو سنگھ کو ابتدائی کامیابی دلانےمیں ناصر حسین کی ۱۹۷۳ء میںآئی فلم ’یادوں کی بارات‘کا اہم مقام ہے۔ اس فلم میں انہیں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ فلم میں ان پر فلمایا نغمہ ’لےکر ہم دیوانہ دل‘ان دنوں سامعین کے درمیان کافی مقبول ہواتھا۔آج بھی یہ گیت سامعین کو محظوظ کر دیتا ہے۔
 
 
۱۹۷۵ءمیںآئی فلم’کھیل کھیل میں‘نیتوسنگھ کےفلمی کریئر کی پہلی سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں ان کے ہیرو کےطور پر رشی کپورتھے۔ نوجوان محبت کی کہانی پر مبنی اس فلم کو ناظرین نے کافی پسندکیا۔ فلم کی کامیابی کے ساتھ ہی نیتو سنگھ اداکارہ کے طور پر فلم انڈسٹری میں شناخت بنانے میںکامیاب ہو گئیں۔۱۹۷۵ءمیںہی نیتوسنگھ کو دیواراور رفوچکر جیسی سپر ہٹ فلموں میں بھی کام کرنےکاموقع ملا۔ فلم دیوار امیتابھ بچن اورششی کپور پر مبنی تھی جبکہ فلم رفوچکر میں انہیں ایک بار پھر رشی کپورکےساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ فلم بھی باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی۔۸۰ءکی دہائی میں نیتو سنگھ فلم انڈسٹری کی چوٹی کی اداکاراؤں میں شمار کی جاتی تھیں۔اس دوران انہیں کئی فلموں میں کام کرنے کیلئےبہت سےآفرملےلیکن انہوں نے ان تمام پیشکشوں کو ٹھکرا دیا اور اداکار رشی کپور سے شادی کر کے فلم انڈسٹری کو الوداع کہہ دیا۔۱۹۸۲ءمیںآئی فلم تیسری آنکھ اداکارہ کے طورپرنیتو سنگھ کی آخری فلم ثابت ہوئی۔ نیتو سنگھ نےکئی فلموں میں اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کےدل جیتے لیکن بدقسمتی سے وہ کسی بھی فلم کیلئےبہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی نہیں گئیں۔ اگرچہ ۱۹۷۹ء میںآئی فلم ’کالاپتھر‘ کیلئےانہیں بہترین معاون اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کیلئےنامزد ضرورکیا گیا۔نیتوسنگھ نے اپنے ۲؍ دہائی طویل فلمی کریئرمیںتقریباً ۶۰؍فلموں میں کام کیا۔ ۲۰۰۹ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’لو آج کل‘ سےنیتونےفلموں میں اپنی دوسری اننگز کا آغازکیا۔ اس کے بعد جب تک ہے جاں کے علاوہ’دودونی چار‘ میں نیتونے اپنے شوہر رشی کپور اور ’بے شرم‘ میں رشی اور بیٹے رنبیر کپور کے ساتھ کام کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK