مانسون ختم ہونے کے باوجود کانٹریکٹر نےکنکریٹ کی سڑک بنانے کا کام شروع نہیں کیا ،۱۵؍دنوں میں جواب دینے کا حکم۔
EPAPER
Updated: October 15, 2023, 9:15 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
مانسون ختم ہونے کے باوجود کانٹریکٹر نےکنکریٹ کی سڑک بنانے کا کام شروع نہیں کیا ،۱۵؍دنوں میں جواب دینے کا حکم۔
مہاراشٹرکے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ممبئی کو ۲۰۲۴ء تک گڑھوں سے پاک کرنے اور تمام سڑکوں کو سیمنٹ کانکریٹ کا بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن مانسون ختم ہوجانے کے باوجود سڑکوں کو سیمنٹ کا بنانے کا کام شروع نہ کرنے کی شکایت موصول ہونے پر بی ایم سی نے ایک ٹھیکیدار کمپنی کا معاہدہ منسوخ کرنے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ متعلقہ کمپنی کو ۱۵؍ دنوں میں نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بی جے پی کے سابق میونسپل کارپوریٹر مکرند نارویکر کے ذریعہ شکایت موصول ہونے پر میسرس روڈ وے سولیوشن انفرا لمیٹڈ (آر ایس آئی ایل) کیخلاف کارروائی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ البتہ بی ایم سی افسران کا کہنا ہے کہ فی الحال اس کمپنی کو صرف نوٹس جاری کیا گیا ہے اس کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ معمول کی کارروائی کے بعد اور منسوخی کی اجازت ملنے پر ہی کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں ایکناتھ شندے اور دیویندر فرنویس کی مخلوط حکومت بننے کے بعد وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ممبئی کی سڑکوں کو سیمنٹ کانکریٹ کا بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اگست ۲۰۲۲ء میں ۵؍ہزار ۸۰۰؍ کروڑ کا ٹینڈر جاری کیا گیا جو ممبئی کی سڑکوں کی تعمیرات کا اب تک کا سب سے زیادہ قیمت والا ٹینڈرتھا۔ البتہ بعد میں یہ ٹینڈر منسوخ کردیا گیا اور ۶؍ ہزار ۷۰؍ کروڑ روپے کا نیا ٹینڈر جاری کیا گیا جو ۵؍ کمپنیوں کو ملا۔
اعلان کے مطابق ممبئی کی ۳۹۷؍ کلو میٹر سڑکوں کو سیمنٹ اور کانکریٹ کا بنایا جانا ہے۔ ممبئی میں بی ایم سی کے زیر اہتمام ۲؍ہزار ۵۰؍ کلو میٹر کی سڑکیں ہیں۔ ان میں سے ۹۹۰؍کلومیٹر کی سڑکوں کو سیمنٹ کانکریٹ کا بنایا جاچکا ہے۔ باقی بچی ایک ہزار ۶۰؍ کلو میٹر کی سڑکوں میں سے ۲۷۰؍ کلو میٹر کی سڑکوں کو سیمنٹ کانکریٹ کا بنانے کا کام گزشتہ برس شروع کیا گیا ہے۔
البتہ جن ۵؍ کمپنیوں کو یہ کانٹریکٹ ملا ہے ان میں سے آر ایس آئی ایل کمپنی کو بی ایم سی کے ۸؍ وارڈوں میں سڑکوں کی تعمیر کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ۱۸؍ جنوری ۲۰۲۳ء کو ورک آرڈر جاری کئے جانے کے باوجود کام شروع نہ کرنے کی وجہ سے اس کمپنی پر مئی میں۱۰؍ کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود موسم باراں شروع ہونے تک بھی کام شروع نہیں ہوا تھا اور اب اسی کمپنی کے تعلق سے دوبارہ شکایت موصول ہونے پر اسے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔