الہ آباد ہائی کورٹ نے آج ۸؍ مسلمانوں کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی، جن پر دریائے گنگا (وارانسی) میں ایک کشتی پر افطار منعقد کرنے، گوشت کھانے اور ہڈیاں دریا میں پھینکنے کا الزام تھا۔
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 7:18 PM IST | Allahabad
الہ آباد ہائی کورٹ نے آج ۸؍ مسلمانوں کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی، جن پر دریائے گنگا (وارانسی) میں ایک کشتی پر افطار منعقد کرنے، گوشت کھانے اور ہڈیاں دریا میں پھینکنے کا الزام تھا۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے آج ۸؍ مسلمانوں کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی، جن پر دریائے گنگا (وارانسی) میں ایک کشتی پر افطار منعقد کرنے، گوشت کھانے اور ہڈیاں دریا میں پھینکنے کا الزام تھا۔جسٹس راجیو لوچن شکلا نے۵؍ جبکہ جسٹس جتیندر کمار سنہا نے۳؍ ملزمان کو ضمانت دی۔ اس کے ساتھ ہی اس مقدمے کے۱۴؍ ملزمین میں سے۸؍ کو ضمانت مل چکی ہے۔ضمانت پانے والوں میں محمد آزاد علی، محمد تحسیم، نہال آفریدی، محمد توصیف، محمد انس، محمد سمیر، محمد احمد رضا، اور محمد فیضان شامل ہیں۔ واضح رہے کہ جب وارانسی کی سیشن عدالت نے یکم اپریل کو انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیاتو ملزمان نے ہائی کورٹ میں رجوع کیا تھا۔ اس سے قبل سی جے ایم کورٹ نے بھی ان کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔
انہیں۱۷؍ مارچ کو وارانسی پولیس نے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے ضلع صدر رجت جیسوال کی شکایت پر گرفتار کیا تھا۔مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جن میں دشمنی کو فروغ دینا، عوامی بےچینی کا سبب بننا، چشمے یا حوض کے پانی کو آلودہ کرنا، عبادت گاہ کو نقصان یا بے حرمتی کرنا، مذہبی جذبات ٹھیس پہنچانے کا جان بوجھ کر عمل، اور پانی کی آلودگی سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ شکایت میں کہا گیا کہ ’’مقدس دریا میں کشتی پر بیٹھ کر افطار میں چکن بریانی کھانا اور ہڈیاں پانی میں پھینکنا انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت‘‘عمل ہے۔شکایت کنندہ نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ عمل جان بوجھ کر ’’جہادی ذہنیت‘‘ کو فروغ دینے کیلئے کیا گیا، جس سے سناتن عقیدت مندوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی اور یہ عمل وسیع پیمانے پر عوامی غم و غصہ کا سبب بنا۔