امریکہ اور ایران میں مذاکرات، اسرائیل میں بے چینی

Updated: April 06, 2021, 3:53 PM IST | Agency | Washington

ایران کے مطابق وہ امریکہ سے کوئی مذاکرات نہیں کرےگا بلکہ عالمی طاقتوں سے اس پر عائد پابندیوں سے متعلق گفتگو کرے گا، جبکہ امریکہ نے اسے مذاکرات کے بجائے عالمی طاقتوں کی سفارشات پر عمل درآمد کے راستوں پر غور کرنے کی کوشش قرار دیا۔ اسرائیل کی نظر میں امریکی رویہ ’تشویش کا باعث‘

During the negotiations on the agreement in the year 2015, the then Foreign Ministers Jawad Zarif and John Kerry.Picture:INN
سال ۲۰۱۵ء میں معاہدے پر ہوئے مذاکرات کے وقت اس وقت کے وزرائے خارجہ جواد ظریف اور جان کیری ۔تصویر :آئی این این

 آج ویانا میں امریکہ اور ایران کے درمیان نیوکلیئر معاہدے کی بحالی اور ایران پر سے متعلق مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔  حالانکہ امریکہ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ یہ مذاکرات معاہدے کی بحالی کیلئے نہیں بلکہ اس کی راہ تلاش کرنے کیلئے ہیں۔ جبکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی طرح کے مذاکرات کا روا دار نہیں ہے بلکہ اس کا مطالبہ ایران پر سے پابندی ہٹانے کا ہے جس کے بعد وہ معاہدے کی پاسداری کرنے کیلئے تیار ہے۔ لیکن اس دوران اسرائیل جس کے کہنے پر سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ  نے ایران کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دیا تھا  ، پھر بے چینی کا اظہار کر نے لگا ہے ۔   مذاکرات کس قسم کے ہوں گے آسٹریا کی راجدھانی  ویانا میں آج (منگل) کو ہونے والے مذاکرات براہ راست امریکہ اور ایران کے درمیان نہیں ہوں گے بلکہ ان میں ان تمام عالمی طاقتوں کے نمائندے ہوں گے جو ۲۰۱۵ء  میں ہوئے نیوکلیئر معاہدے کا حصہ تھے ۔  یہ تمام مل کر  اس بات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے کہ امریکہ نیوکلیئر معاہدے کو بحال کرنے پر آمادہ ہوجائے اور ایران یورینیم کی افزودگی کم کرنے کیلئے تیار ۔لیکن امریکہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ عالمی طاقتوں نے معاہدے کی بحالی اور ایران کی یورینیم افزودگی پر قدغن  لگانے کیلئے جن خطوط پر کام کرنے کی تجویز پیش کی ہے وہ قابل عمل ہیں یا نہیں۔  جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ سے براہ راست کوئی مذاکرات نہیں کرے گا اور عالمی طاقتوں سے بھی اس کی بات  اس پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے سے شروع ہوگی۔ یعنی ایران معاہدے کی بحالی اور یورینیم کی افزودگی میں کمی پر گفتگو کے بجائے  اپنے اوپر لگی پابندیوں کو ختم کروانا چاہتا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی ملک امریکہ کے سامنے مذاکرات کیلئے اپنی شرائط پیش کرے۔ اہم بات یہ ہے کہ امریکہ ایران کی شرائط کو قبول کرے یا نہ کرے اس کے آگے مجبور ضرور دکھائی دے رہا ہے کیونکہ عالمی طاقتوں (چین ، فرانس، برطانیہ اور روس  )نے ایران کی اس شرط کو مسترد نہیں کیا ہے نہ ہی ناپسند کیا ہے۔ 
  اسرائیل میں بے چینی 
 ادھر  اسرائیل  میں مذاکرات کی خبر آتے ہی بے چینی شروع ہو گئی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام جو بائیڈن کا نیوکلیئر معاہدے پر  کئے گئے وعدہ سے پیچھے ہٹ جانے کے مترادف ہے۔   دراصل گزشتہ دنوں ایران کیلئے امریکہ کے نمائندۂ خصوصی رابرٹ میلے نے کہا تھا کہ’’ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران اگر ایسی پابندیاں عائد کی ہوں جو کہ  نیوکلیئر معاہدے کی شرائط کے خلاف ہوں تو امریکہ ان پابندیوں کو ہٹانے پر مجبور ہوگا۔‘‘    انہوں نے کہا تھا کہ ’ ’ اگر فریقین  میں سے کسی نے بھی سخت موقف اختیار کیا توان کوششوں کا کامیاب ہونا دشوار ہے۔‘‘   یہ الفاظ واضح طور پر اس بات کو ظاہر کر رہے ہیں کہ ان مذاکرات میں امریکہ دفاعی پوزیشن میں ہے جبکہ ایران  کا رویہ جارحانہ ہے۔   اسی بنیاد پر اسرائیل  نے کہا ہے کہ ’’اگر یہی امریکہ کی پالیسی ہے تو ہمیں اس پر تشویش ہے۔‘‘  اسرائیلی اخبار  ’جیروسلم پوسٹ‘ نے  اسرائیلی حکومت کے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’ رابرٹ میلے کے انٹرویو نے اسرائیل میں اعلیٰ سطح پر حیرانی پھیلا دی ہے۔ اس لئے کہ ماضی میں بائیڈن انتظامیہ زیادہ طویل اور مضبوط ڈیل کی باتیں کرتا آیا ہے گویا کہ وہ کسی نئے سمجھوتے کیلئے کوشاں ہے مگر میلے کے انٹرویو میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ایسا نظر آ رہا ہے کہ معاملہ صرف ۲۰۱۵ء میں طے پانے والے سمجھوتے کی طرف واپسی سے متعلق ہے۔‘‘  اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ’’ شاید جو بائیڈن یہ سوچ رہے ہیں کہ  وزیراعظم نیتن یاہو ، کوئی  بھرپور جواب دینے کی پوزیشن میں نہیںہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK