مجموعی طور پر ۶۰؍فیصد پولنگ درج کی گئی ،سخت سیکوریٹی انتظامات کے درمیان آج ووٹوں کی گنتی کی جائے گی ۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 12:50 PM IST | Kathmandu
مجموعی طور پر ۶۰؍فیصد پولنگ درج کی گئی ،سخت سیکوریٹی انتظامات کے درمیان آج ووٹوں کی گنتی کی جائے گی ۔
ہمسایہ ملک نیپال میں جین زیڈ تحریک کے چھ ماہ بعد جمعرات کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ عمل میں آئی۔ اس موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے ۔ نیپال میں وفاقی پارلیمنٹ کے۲۷۵؍ رکنی ایوان زیریں کیلئے ووٹنگ صبح۷؍ بجے ( ہندستانی وقت کے مطابق۴۵:۶؍ بجے) شروع ہوئی اورشام۵؍ بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق۴۵:۴؍ ) تک جاری رہی۔نیپالی کمیونسٹ پارٹی (این سی پی) کے کوآرڈینیٹر پشپا کمل دہل پرچنڈ نے بھرت پور شہر میں چتوان کے شانتی پور کے وارڈ نمبر۱۴؍ میں واقع نیپال پولیس اسکول میں اپنا ووٹ ڈالا اور امید ظاہر کی کہ انتخابات کے بعد ملک خوشحالی کی طرف بڑھے گا۔ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ووٹرز ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں گے جو ملک اور اس کے شہریوں کے مفادات کو ترجیح دیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: آیت اللہ خامنہ ای: تدفین آج ۶؍مارچ کومشہد میں ہوگی،لاکھوں افراد کی شرکت متوقع
دریں اثنا، راسٹریہ سواتنتر پارٹی (آر ایس پی) کے صدر روی لامچھانے نے چچیپاٹی میں کھٹمانڈو اپاتیکا کھانیپانی لمیٹڈ (کے یو کے ایل) پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ ڈالا۔ بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتخابات سے ملک میں سیاسی حل نکالنے میں مدد ملے گی۔ وہ چتوان حلقہ ۲؍سے ایوان نمائندگان کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ آر ایس پی کے سینئر لیڈر بالیندر شاہ سمیت مختلف پارٹیوں کے کئی دیگر لیڈروں نے بھی اپنا ووٹ ڈالا۔ ہمالین ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق ووٹنگ کا عمل صبح۷؍ بجے شروع ہوا۔ غور طلب ہے کہ جین زی تحریک کی وجہ سے نیپالی کانگریس کی حمایت یافتہ کھڈگ پرساد شرما اولی کی حکومت کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ اسٹیشنز پر مردوں اور خواتین کیلئے الگ الگ لائنیں بنائی گئی ہیں۔