۳۵؍ برسوں میں سب سے زیادہ تعداد، متاثرہ افراد میںتقریباً۵۹؍ فیصد بچے اورنوعمر ہیں۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 11:12 AM IST | Washington
۳۵؍ برسوں میں سب سے زیادہ تعداد، متاثرہ افراد میںتقریباً۵۹؍ فیصد بچے اورنوعمر ہیں۔
امریکہ میں رواں سال اب تک خسرہ کے ۵؍ ہزار ۱۸۲؍ مصدقہ معاملات سامنے آئے ہیں، جو گزشتہ ۳۵؍ برسوں کے دوران سب سے زیادہ تعداد ہے۔ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی ہے ۔خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے، تاہم ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق۱۹۹۱ء کے بعد سے اس بیماری کے اتنے زیادہ معاملات رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں میں خسرہ کے مجموعی معاملات کا۱۸؍ فیصد حصہ ہے، جبکہ پانچ سے ۱۹؍ سال کی عمر کے بچوں اور نوعمروں میں ۴۱؍ فیصد معاملات سامنے آئے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر متاثرہ افراد میں تقریباً۵۹؍ فیصد بچے اور نوعمر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی چھٹی تقریباً طے، آج وزیر اعظم کے نام کا اعلان
امریکہ میں خسرہ کے پھیلاؤ میں اضافے کے ساتھ ہی کنڈرگارٹن میں داخل بچوں کی ٹیکہ کاری کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔ تعلیمی سال ۲۰-۲۰۱۹ء میں یہ شرح۹۵ء۲؍ فیصد تھی جو ۲۶-۲۰۲۵ء میں گھٹ کر۹۲ء۴؍ فیصد رہ گئی۔ نومبر ۲۰۲۶ء تک خسرہ کے مصدقہ معاملات کی تعداد ۲۰۲۵ء میں رپورٹ ہونے والے ۲؍ ہزار ۲۸۹؍ معاملات سے دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔سی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء میں خسرہ کے باعث اب تک چار افراد کی موت ہوئی ہے۔ تاہم وفاقی ادارے کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں کی تعداد ریاستی حکام کے اعداد و شمار سے کم ہے، خصوصاً پنسلوانیہ میں، جہاں اس وبا کا سب سے زیادہ اثر دیکھا گیا ہے۔