کہا:سینئر لیڈر محض نمائشی عہدوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں،سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل جیسے لیڈروں کو نظر انداز کیا جارہاہے،دیگر معاملات پر بھی تنقید۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 10:50 AM IST | Mumbai
کہا:سینئر لیڈر محض نمائشی عہدوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں،سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل جیسے لیڈروں کو نظر انداز کیا جارہاہے،دیگر معاملات پر بھی تنقید۔
مہاراشٹر کے حکمراں مہایوتی اتحادمیں سیاسی ہلچل کے درمیان شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے ریاستی حکومت پرسخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اجیت پوارکی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) میں اندرونی طاقت کا توازن مکمل طور پر نوجوان لیڈرپارتھ پوار کے حق میںمنتقل ہو گیا ہے، جبکہ پارٹی کے سینئر اور بااثر لیڈر محض نمائشی عہدوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے سنجے راوت نے دعویٰ کیا کہ سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل جیسے سینئرلیڈروں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی گھٹن کے باعث دوبارہ اتحاد کی باتیں سیاسی حلقوں میں گردش کرنے لگی ہیں۔
حکمرانی کے معاملے پر تنقید کو مزید آگے بڑھاتےہوئے شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈرنے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی کمشنر اشونی بھیڑے کی جانب سے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو لکھےگئے ایک خط کا حوالہ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس خط میں بااثر رئیل اسٹیٹ تاجروں کی جانب سے مبینہ طورپر کئی کروڑ روپے مالیت کی اراضی پر غیر قانونی قبضوں اور سیاسی قیادت کی سرپرستی میں دباؤ ڈالنے کے حربوں پر تنقید کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر ایس آئی آر:ووٹر لسٹ سے خارج کئے گئے افراد میں ’شیخ‘ سر نیم سرفہرست
اس کے علاوہ سنجے راوت نے مراٹھا ریزرویشن تحریک کے کارکن منوج جرنگے پاٹل کے خلاف حکمراں اتحادپر مختلف محاذوں سے سیاسی انتقامی کارروائی کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے۵۰۰؍کروڑ روپے کے مبینہ آڈیو کلپ تنازع اور ریاستی حکومت کی سرپرستی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تحقیقات کے پس پردہ سیاسی مقاصد پر بھی سوال اٹھائے۔
راوت نے ایودھیا میں ریاستی حکومت کے خرچ پر بڑے پیمانے پر منعقد کیے جانے والے دیپوتسو پروگرام پر بھی سخت تنقید کی۔