غیر قانونی حراست اور تھانوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہ ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات پرعدالت میں ریاستی حکومت کی سخت سرزنش۔
EPAPER
Updated: November 08, 2026, 11:13 AM IST | Allahabad
غیر قانونی حراست اور تھانوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہ ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات پرعدالت میں ریاستی حکومت کی سخت سرزنش۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش پولیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں شہری آزادی کی صورت حال ’انتہائی شرمناک‘ ہے ۔ عدالت نے یہ تبصرہ ملزموں کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے حراست میں رکھنے اور پولیس تھانوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہ ہونے کے بار بار سامنے آنے والے واقعات کے تناظر میں کیا ہے۔ جسٹس اتل سری دھرن اور جسٹس اچل سچدیو کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس کو شہریوں کے بنیادی حقوق اور شہری آزادی کی ’کوئی پروا نہیں‘ ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اترپردیش پولیس کیلئے ان حقوق کی خلاف ورزی کرنا گویا معمول بن گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے واضح کیا کہ کسی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کے معاملے میں پولیس سی سی ٹی وی کیمرے خراب ہونے کا بہانہ نہیں بنا سکتی۔ عدالت نے یہ تبصرہ بجنور کے افضل احمد کی جانب سے دائر حبس بیجا (ہیبیئس کارپس) کی عرضی کی سماعت کے دوران کیا ۔ افضل احمد کا دعویٰ تھا کہ بجنور پولیس نے انہیں ۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو حراست میں لے لیا تھالیکن ان کی باقاعدہ گرفتاری ۷؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو ظاہر کی گئی۔ عدالت نے عرضی گزار کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ۷؍ دن کے اندر عرضی گزار کو اخراجات کے طور پر ۲۰ ؍ہزار روپے ادا کرے۔تفصیلات کے مطابق، افضل احمد کی بیٹی کی جانب سے دائر عرضی میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سادہ لباس میں آئے پولیس اہلکاروں اور ایس او جی (اسپیشل آپریشن گروپ) کے افسران نے ان کے والد کو تھانے کے باہر سے زبردستی اٹھا لیا تھا جبکہ ان کے والد پولیس کے بلانے پر ہی تھانے گئے تھے ۔ان الزامات کی حقیقت معلوم کرنے کیلئے ہائی کورٹ نے پہلے ہی ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ ۵ ؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو دوپہر ایک بجے سے ۷؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کی صبح ۱۰؍ بجے تک کی تھانے کے سی سی ٹی وی فوٹیج عدالت میں پیش کرے۔ تاہم، جب معاملہ عدالت کے سامنے آیا تو ریاستی حکومت نے بتایا کہ مذکورہ مدت کے سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہیں ۔ ریاستی حکومت نے ۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کی جنرل ڈائری میں درج ایک اندراج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آندھی اور طوفان کے دوران کیبل کے ذریعے پانی سی سی ٹی وی سسٹم میں داخل ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے سسٹم خراب ہوگیا اور اس نے کام کرنا بند کردیا تھا۔
تاہم، بنچ نے پولیس کی اس وضاحت پر اعتراض کرتے ہوئے ایسے کئی واقعات کا ذکر کیا، جن میں عدالت کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کیے جانے کے باوجود اسے پیش نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یکے بعد دیگرے کئی معاملات میں جب بھی اس عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کئے ہیں تو زیادہ تر معاملات میں یہی رپورٹ سامنے آتی ہے کہ کسی نہ کسی وجہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہیں۔بنچ نے یہ بھی بتایا کہ اترپردیش میں سی سی ٹی وی سسٹم کے کام نہ کرنے کے معاملے پر ایک الگ عرضی کی سماعت بھی جاری ہے، جس میں ابھی فیصلہ آنا باقی ہے۔
بنچ نے واضح کیا کہ غیر قانونی حراست کے معاملات میں پولیس یہ عذر پیش نہیں کر سکتی کہ سی سی ٹی وی کیمرے خراب تھے۔ عدالت نے کہا کہ اگر پولیس اس طرح کا کوئی بہانہ بناتی ہے تو اسے عرضی گزاروں کے اس دعوے کو درست ماننے کے لیے کافی سمجھا جائے گا کہ متعلقہ شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تھا اور ’جان بوجھ کر سچائی چھپانے‘ کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہیں کئے گئے۔ اس معاملے میں عدالت نے ایس ایچ او انو کماری کے کردار پر بھی توجہ دی اور کہا کہ انہوں نے جان بوجھ کر وہ سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہیں کئے، جو اس معاملے کے فیصلے کے لیے ضروری تھے۔
حبس بیجا (ہیبیئس کارپس) کی عرضی منظور کرتے ہوئے عدالت نے افضل احمد کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا، بشرطیکہ وہ کسی دوسرے معاملے میں مطلوب نہ ہوں۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ ۷؍ دن کے اندر عرضی گزار کو اخراجات کے طور پر ۲۰ ہزار روپے ادا کرے۔