اسرائیل کے فوجی افسروں کو خدشہ ہے کہ نیتن یاہو انتخابات میںتاخیر کیلئے جنگ چھیڑ سکتے ہیں، رپورٹس کے مطابق، سینئر افسران کا خیال ہے کہ وزیراعظم موجودہ تنازعات کو ختم ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 10:03 PM IST | Tel Aviv
اسرائیل کے فوجی افسروں کو خدشہ ہے کہ نیتن یاہو انتخابات میںتاخیر کیلئے جنگ چھیڑ سکتے ہیں، رپورٹس کے مطابق، سینئر افسران کا خیال ہے کہ وزیراعظم موجودہ تنازعات کو ختم ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ، اسرائیلی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کو شبہ ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو غزہ میں صورتِ حال کو بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ ملک میں ہونے والے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں خلل ڈالا جا سکے یا ان میں تاخیر کی جا سکے۔اسرائیلی روزنامہ ’’معاریو‘‘ نے فوج کی اعلیٰ قیادت کے اندر موجود تجزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نیتن یاہو نہیں چاہتے کہ موجودہ جنگیں ختم ہوں، مزید برآں وہ انتخابات کے قریب آتے ہی غزہ میں نئی کشیدگی کا آغاز کر سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، سینئر فوجی افسران کو تشویش ہے کہ مزید فوجی کارروائیوں کے حوالے سے فیصلے سیاسی تحفظات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے ترکی کےصدر اردگان کو’’یہود مخالف آمر‘‘ قرار دیا
بعد ازاں افسران نے واضح کیا ہے کہ فوج کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ واضح سیکیورٹی ضرورت کے بغیر کسی اور تنازع میں گھسیٹی جائے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم کسی نئی اور غیر ضروری جنگ میں داخل نہیں ہوں گے۔‘‘ واضح رہے کہ یہ خدشات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں نیتن یاہو کی متعدد محاذوں پر صورتحال سے نمٹنے کے طریقے پر بحث تیز ہے، اور اپوزیشن شخصیات ان پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ انتخابات سے قبل سیکیورٹی مسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے حال ہی میں شمالی شام کے فوجی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد ترکی کے خلاف اپنی باتوں میں سختی پیدا کی ہے۔اسرائیلی اپوزیشن شخصیات، جن میں سابق وزیراعظم ایہود باراک اور ڈیموکریٹس پارٹی کے لیڈریائر گولان شامل ہیں، نے نیتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ وہ سیاسی مفادات کی خاطر ترکی کے ساتھ جان بوجھ کر کشیدگی بڑھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یہ بھی ناکام ہوں گی: ایران کا ٹرمپ کی نئی اقتصادی پابندیوں پر ردعمل
علاوہ ازیں رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی سیکیورٹی عہدیداروں نے بھی ترکی کے ساتھ ’’غیر ضروری‘‘ کشیدگی کے خلاف انتباہ دیاہے، اور تشویش ظاہر کی ہے کہ نیتن یاہو اور وزیردفاع اسرائیل کاٹز کے عوامی بیانات مزید تناؤ کو ہوا دے سکتے ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ فوج کے ساتھ یہ مبینہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو کو انتخابی میدان میں مشکل صورتحال کا سامنا ہے، حالیہ پول کے مطابق ان کا برسراقتدار گروپ حکومت بنانے کے لیے درکار پارلیمانی اکثریت سے محروم دکھائی دیتا ہے۔جبکہ اسرائیل میں اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔