• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو کا ابوظہبی کا غیر اعلانیہ دورہ، محمد بن زاید سے ملاقات

Updated: September 29, 2026, 1:49 PM IST | Agency | Abu Dhabi

اسرائیل میں انتخابات سے قبل اس اچانک ملاقات پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں، اس سے قبل اسرائیلی اخبار ہارٹز نے خبر دی تھی کہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے پہلے محمد بن زاید نے ٹیلی فونک گفتگو میںیاہو کو حماس کے حملے سے خبر دار کیا تھا جس پر یاہو نے کوئی کارروائی نہیں کی جس کے بعد اسرائیل میں یاہو شدید تنقیدوںکی زد پر ہیں۔

Diplomatic relations between the UAE and Israel were established in 2020 under the Abraham Accords. Photo: INN
یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ا براہیم کے تحت ۲۰۲۰ء میں سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ تصویر: آئی این این

ٹی وی چینلز۱۲؍ اور کان جبکہ اخبارات ہارٹز اور یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کا یک روزہ دورہ کیا اور صدر محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر اور متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔یہ دورہ ایسے وقت پر کیا گیا، جب اسرائیلی اخبار ہارٹز نے رواں ماہ خبر دی تھی کہ شیخ محمد نے۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ حماس اسرائیل کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ اخبار کے مطابق یہ انتباہ اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں یا فوج تک نہیں پہنچایا گیا تھاجس پر اپوزیشن  اسرائیلی وزیر اعظم یاہوپر سخت برہم ہے اور ان کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔ واضح رہےکہ اسرائیل میں انتخابات بھی ہونے وا لے ہیں۔اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدہ ابراہیم کے تحت ۲۰۲۰ء میں باضابطہ طور پر باہمی سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔عبرانی چینل۱۲؍ نے انکشاف کیا کہ  یاہو اتوار کی صبح ایک نجی طیارے کے ذریعے  یو اے ای پہنچے اورسارا دن وہیں رہے۔ اس کے بعد وہ شام کو  اسرائیل لوٹ آئے۔ چینل نے اس بات کی تصدیق کی کہ دورہ خفیہ طور پر انجام پایا اور اس دوران  یاہو اور ان کے عملے نے کئی نجی طیاروں کا استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھئے: کارٹونسٹ ستیش آچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک

محمد بن زاید کے ساتھ گفتگو کا کیا معاملہ ہے

امارات کا یہ غیر اعلانیہ دورہ نیویارک سے یاہو کی واپسی کے محض دو دن بعد ہواہے جہاں اس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔موجودہ دورہ اس رپورٹ کی روشنی میں اضافی اہمیت اختیار کر لیتا ہے جو ستمبر کے اوائل میں اسرائیلی اخبار’ہارٹز‘کی طرف سے شائع کی گئی تھی جس میں محمد بن زاید اور  نیتن یاہوکے درمیان ۷؍ اکتوبر کے واقعات سے پہلے ہونے والے ایک مبینہ ٹیلیفونک مکالمےکی تفصیلات دی گئی تھیں۔رپورٹ کے مطابق بن زاید نے  یاہو کو خبردار کیا تھا کہ غزہ میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما یحییٰ سنوار  اسرائیل کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔اخبار کی طرف سے پیش کی گئی خبر کے مطابق یہ بات چیت تقریباً۴۵؍منٹ تک جاری رہی جس کے دوران اماراتی صدر نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ کوئی بھی بڑی کشیدگی خطے کو غیر مستحکم کرنے اور نارملائزیشن کے معاہدوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔

یاہو کے دفتر نے اس گفتگو کی تردید کی تھی

نیتن یاہو کے دفتر نے اس  گفتگو کے درست ہونے کی تردید کی تھی اور اسے ’’سفاکانہ جھوٹ ‘ قرار دیا تھا۔ اس نے کہا تھا نیتن یاہو کی محمد بن زاید سے کوئی بات نہیں کی تھی اور نہ ہی انہیں ممکنہ حملے کے حوالے سے کوئی انتباہ موصول ہوا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ اماراتی اخبار ’دی نیشنل ‘ نے ایک نامعلوم سرکاری ذریعے کے حوالے سے ’ہارٹز ‘ کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد یہ نقل کیا کہ امارات متعلقہ فریقوں کے ذریعے دیگر ممالک کے ساتھ سیکوریٹی کے امور پر تبادلہ خیال کرتا ہے اورلیڈروں کی سطح پر اس پر بحث نہیں کرتا۔

خفیہ دورہ اور سابقہ کشیدگی

متحدہ عرب امارات کا  نیتن یاہو کا خفیہ دورہ اپنی نوعیت کا پہلا دورہ نہیں ہے، اس سے پہلے  بھی  اسرائیل کے  سربراہ کے دفتر نے گزشتہ مئی  میں امارات کیلئے  یاہوکے ایک خفیہ دورے کا اعلان کیا تھا، اس وقت اسے یہ کہتے ہوئے بیان کیا گیا تھا کہ اس دورے سےدونوں فریقوں کے درمیان تعلقات میں ’تاریخی پیش رفت‘ میں کامیابی ملی  ہے۔عبرانی چینل۱۲؍ کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق ابوظہبی کی خواہش کے برعکس اس دورے کا انکشاف دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا تھا۔ موجودہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی انتخابی میدان ایک بڑھتی ہوئی سیاسی بحث کا شاہدبنا ہوا ہے اور انتخابات کی تاریخ قریب آ رہی ہے، جبکہ یاہو اور محمد بن زاید کے درمیان ملاقات کی تفصیلات ابھی تک صیغہ راز میں ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کی طرف سے ملاقات کی تصدیق کے باوجود تاحال یاہو کے دفتر یا اماراتی فریق کی طرف سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے جو بات چیت کے مندرجات یا ان فائلوں کو بے نقاب کرے جن پر دونوں فریقوں نے بحث کی۔

یہ بھی پڑھئے:الیکشن کمیشن کیخلاف ناندیڑ، امراوتی اور ناگپور سمیت دیگر شہروں میں احتجاج

نیتن یاہوکے خلاف اپوزیشن کی مہم 

نیتن یاہو  نے  اس وقت ہارٹز کی رپورٹ کی تردید کی تھی اور اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی۔ وہ اس وقت اپوزیشن کی سخت مہم کا سامنا کر رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں نے وزیراعظم پر۷؍اکتوبر کو حماس کے حملے سے قبل ہونے والی سیکوریٹی ناکامیوں کی ذمہ داری عائد کی ہے۔متحدہ عرب امارات نے ہارٹز کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم کہا ہے کہ۲۰۲۰ء میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد سے امارات اور اسرائیل کے درمیان ’کھلے اور براہ راست رابطے ‘ برقرار ہیں۔اسرائیل میںاپوزیشن جماعتیںاس معاملےپرنیتن یاہو کو گھیرنے کی تیاری کررہی ہیںاوراسے بڑا انتخابی موضوع بنارہی ہیں۔سیکڑو ں یہودیوںکی ہلاکت کے الزام  کے نتیجے میں یاہو کی انتخابی مساوات بگڑ سکتی ہے۔

اس سے قبل بھی ملاقات ہوچکی ہے !

ذرائع کے مطابق اس سے قبل مئی میں بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا تھا کہ نیتن یاہو نے اس خلیجی ملک کا ایک ’خفیہ دورہ‘ کیا اور صدر سے ملاقات کی تھی۔اس ملاقات سے واقف ایک ذریعے نے اس وقت بتایا تھا کہ نیتن یاہو اور شیخ محمد نے۲۶؍ مارچ کو ابوظہبی کے قریب العین شہر میں ملاقات کی تھی ۔ العین عمان کے ساتھ سرحد کے قریب واقع ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران حملوں کی زد میں آنے کے بعد سے متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات امارات کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور واشنگٹن کے ساتھ رابطے کا ایک اہم  ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK