• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ فلکس کے ناظرین کا دیکھنے کا دورانیہ مسلسل گھٹنے لگا، پلیٹ فارم کے مستقبل پر سوالیہ نشان

Updated: November 04, 2026, 5:04 PM IST | New York

تازہ تجزیوں کے مطابق صارفین اب پہلے کے مقابلے میں نیٹ فلکس پر کم وقت صرف کررہے ہیں، جس سے کمپنی کے مستقبل، کاروباری حکمت عملی اور اسٹریمنگ انڈسٹری میں اس کی برتری کے حوالے سے سوالات پیدا ہونے لگے ہیں۔

Netflix.Photo:INN
نیٹ فلکس۔ تصویر:آئی این این

دنیا کے معروف او ٹی ٹی اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس (Netflix) کو ناظرین کے دیکھنے کے دورانیے میں کمی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ تازہ تجزیوں کے مطابق صارفین اب پہلے کے مقابلے میں نیٹ فلکس پر کم وقت صرف کررہے ہیں، جس سے کمپنی کے مستقبل، کاروباری حکمت عملی اور اسٹریمنگ انڈسٹری میں اس کی برتری کے حوالے سے سوالات پیدا ہونے لگے ہیں۔ نیٹ فلکس نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنی اصل اور خصوصی فلموں، ویب سیریز، دستاویزی پروگراموں اور بین الاقوامی مواد کے ذریعے دنیا بھر میں بڑی تعداد میں صارفین کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے، لیکن اب بدلتی ہوئی ناظرین کی عادات اور تفریح کے بڑھتے ہوئے متبادل اس کے لیے نئے چیلنج بن رہے ہیں۔
 امریکی مالیاتی ادارے ویلز فارگو (Wells Fargo) کے تجزیے کے مطابق نیٹ فلکس پر صارفین کے دیکھنے کے مجموعی دورانیے میں گزشتہ تین برسوں کے دوران تقریباً ۸؍ فیصد کمی ہوئی ہے۔ جون ۲۰۲۳ء میں ایک صارف روزانہ اوسطاً ۱ء۸۱؍ گھنٹے نیٹ فلکس کا مواد دیکھتا تھا  جبکہ جون ۲۰۲۶ء میں یہ دورانیہ کم ہوکر تقریباً ۱ء۶۴؍ گھنٹے رہ گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی اس بات کی علامت ہے کہ صارفین اب اس پلیٹ فارم پر پہلے جتنا وقت نہیں گزار رہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق نیٹ فلکس کے اندرونی اعداد و شمار بھی صارفین کی سرگرمیوں میں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کمپنی صارفین کی جانب سے ہر ماہ ایپ کھولنے کے دنوں کو جانچنے کے لیے ’کوالیفائیڈ پلے ڈیز‘ (Qualified Play Days) نامی پیمانہ استعمال کرتی ہے۔ اس پیمانے کے مطابق صارفین اب چند برس پہلے کے مقابلے میں کم دن نیٹ فلکس ایپ کھول رہے ہیں۔ مزید یہ کہ ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں پلیٹ فارم پر مجموعی دیکھنے کے وقت میں معمولی اضافہ ہوا، لیکن اس کی بنیادی وجہ نئے صارفین کا اضافہ تھا، نہ کہ پرانے صارفین کا زیادہ وقت گزارنا۔ 

یہ بھی پڑھئے:انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کی بیٹی ویوین نے بھی والد کا خاندانی نام قانونی طور پر ہٹا دیا

نیٹ فلکس کے لیے ایک بڑا چیلنج یوٹیوب (YouTube) اور دیگر ڈجیٹل پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ صارفین اب طویل فلموں اور ویب سیریز کے ساتھ مختصر ویڈیوز، وی لاگز، پوڈکاسٹ اور تخلیق کاروں کے تیار کردہ مواد کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکی ٹیلی ویژن ناظرین کے اعداد و شمار کے مطابق یوٹیوب نے دیکھنے کے دورانیے میں نیٹ فلکس کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کرلی ہے۔م اہرین کا کہنا ہے کہ مفت یا کم خرچ تفریحی مواد کی دستیابی نے ناظرین کی توجہ تقسیم کردی ہے۔ ایسے میں نیٹ فلکس کے لیے صرف نئے صارفین حاصل کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ موجودہ صارفین کو پلیٹ فارم پر زیادہ وقت گزارنے کے لیے بھی آمادہ کرنا ہوگا۔ 
نیٹ فلکس نے اپنی آمدنی کے ذرائع بڑھانے کے لیے اشتہارات پر مبنی سبسکرپشن منصوبے متعارف کرائے ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت کمپنی کو نہ صرف سبسکرپشن فیس بلکہ اشتہارات سے بھی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اگر صارفین فلمیں اور ویب سیریز کم دیکھیں گے تو اشتہارات دیکھنے کا دورانیہ بھی گھٹ سکتا ہے، جس سے کمپنی کی اشتہاری آمدنی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔رپورٹس کے مطابق نیٹ فلکس نے ۲۰۲۶ء کے لیے اپنی اشتہاری آمدنی کے تخمینے میں بھی کمی کی ہے۔ کمپنی کو اشتہارات سے تقریباً ۲ء۷؍ ارب ڈالر آمدنی کی توقع ہے، جو پہلے کے اندازوں سے کم ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سائنسی مقالوں میں اے آئی کے فرضی حوالوں کا بڑھتا انکشاف

نیٹ فلکس نے ۲۰۲۲ء میں پاس ورڈ شیئرنگ کے خلاف سخت اقدامات شروع کیے تھے، تاکہ ایک اکاؤنٹ کو متعدد گھروں میں استعمال کرنے کے رجحان کو روکا جاسکے۔ ابتدا میں کمپنی کو توقع تھی کہ اس اقدام کے بعد صارفین کی سرگرمیوں میں آنے والی کمی عارضی ہوگی، لیکن حالیہ رپورٹس کے مطابق دیکھنے کے دورانیے میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔ اگرچہ کمپنی کے صارفین کی تعداد اور آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن صارفین کی دلچسپی برقرار رکھنا اب ایک اہم کاروباری مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ نیٹ فلکس کے شریک چیف ایگزیکٹیو ٹیڈ سرینڈوس نے بھی اعتراف کیا ہے کہ امریکہ میں دیکھنے کے رجحان میں اضافہ کمپنی کی توقعات کے مطابق نہیں ہورہا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK