Updated: July 18, 2026, 6:03 PM IST
| Amsterdam
نیدرلینڈز (ہالینڈ) نے کئی ہفتوں سے جاری خشک سالی کے بعد باضابطہ طور پر پانی کی قلت کا اعلان کرتے ہوئے قومی خشک سالی کے ردعمل کو لیول ۲؍ تک بڑھا دیا ہے۔ حکومت نے سیلابی دفاع، پینے کے پانی اور توانائی کی فراہمی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں سطح تک پہنچ جانے والے پانی کے استعمال پر پابندیاں بھی عائد کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ہالینڈ نے کئی ہفتوں سے جاری خشک موسم اور بارش کی شدید کمی کے بعد باضابطہ طور پر پانی کی قلت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے قومی خشک سالی کے ردعمل کو بڑھاتے ہوئے لیول ۲؍نافذ کر دیا ہے، تاکہ دستیاب آبی وسائل کا مؤثر انتظام کیا جا سکے۔ ڈچ نشریاتی ادارے ین او ایس کے مطابق، وزارتِ انفراسٹرکچر و واٹر مینجمنٹ نے قومی پانی کی تقسیم رابطہ کمیٹی (National Water Distribution Coordination Committee) کی سفارش پر یہ فیصلہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں بھی پانی کی قلت برقرار رہنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث پیشگی اقدامات ضروری سمجھے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: نصف ڈیموکریٹ کا اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کے خلاف ووٹ
نئے اقدامات کے تحت سب سے پہلے سیلاب سے بچاؤ کے بندوں (Dikes) اور خشک سالی سے متاثر ہونے والے حفاظتی ڈھانچوں کو محفوظ رکھا جائے گا۔ اس کے بعد پینے کے پانی کی فراہمی اور توانائی کی پیداوار کو ترجیح دی جائے گی تاکہ بنیادی خدمات متاثر نہ ہوں۔ حکومت نے مختلف صوبائی اور مقامی انتظامیہ کو بھی اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کریں۔ اسی سلسلے میں صوبہ لِمبرگ پہلے ہی کھیتوں کی آبپاشی سمیت دیگر مقاصد کے لیے سطحی پانی کے استعمال پر پابندی عائد کر چکا ہے۔ وزارتِ انفراسٹرکچر و واٹر مینجمنٹ کے ماتحت ادارے Rijkswaterstaat نے واضح کیا ہے کہ اس وقت عوام کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں، تاہم شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خشک موسم کے دوران پانی کا استعمال انتہائی ذمہ داری کے ساتھ کریں تاکہ غیر ضروری ضیاع سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش کی رباب فاطمہ کو افغانستان کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کیا
رپورٹ کے مطابق، ہالینڈ میں دریاؤں میں پانی کی آمد لوبیتھ (Lobith) کے مقام پر ۱۹۷۶ء کے بعد اپنی کم ترین سطح تک پہنچ گئی ہے، جو ملک میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ قومی پانی کی تقسیم رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ موجودہ پانی کی قلت معمول کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہے۔ کمیٹی کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مستقبل میں بھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہالینڈ نے اس سے قبل اگست ۲۰۲۲ء میں بھی خشک سالی کے ردعمل کو لیول ۲؍ تک بڑھایا تھا، جبکہ ملک میں سب سے بلند لیول ۳؍ الرٹ آخری مرتبہ ۲۰۰۳ء میں نافذ کیا گیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات واضح ہوتے جا رہے ہیں، جہاں شدید گرمی، کم بارش اور دریاؤں میں پانی کی سطح میں مسلسل کمی نہ صرف زرعی شعبے بلکہ توانائی، آبی وسائل اور ماحولیاتی نظام کے لیے بھی بڑے چیلنج بن رہے ہیں۔