Updated: July 18, 2026, 6:10 PM IST
| New York
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے نمبر کے پلے آف سے قبل فرانس کے ہیڈ کوچ ڈیڈیئر ڈیشامپ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی ٹیم اس مقابلے میں کھیلنے کی خواہش نہیں رکھتی، کیونکہ اصل ہدف فائنل تک پہنچنا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کی نمائندگی ایک ذمہ داری ہے اور کھلاڑی پوری سنجیدگی کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ یہ مقابلہ ڈیشامپ کے فرانس کے کوچ کی حیثیت سے آخری میچ بھی ہوگا، جس کے باعث کھلاڑی انہیں کامیاب انداز میں رخصت کرنا چاہتے ہیں۔
فرانس کے ہیڈ کوچ ڈیڈیئر ڈیشامپ۔ تصویر: ایکس
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے تیسرے نمبر کے پلے آف میں انگلینڈ کا سامنا کرنے سے قبل فرانس کے ہیڈ کوچ ڈیڈیئر ڈیشامپ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ان کی ٹیم اس میچ میں کھیلنا نہیں چاہتی تھی، کیونکہ ہر کھلاڑی اور کوچ کا خواب ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنا ہوتا ہے، نہ کہ تیسری پوزیشن کے لیے میدان میں اترنا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک بار قومی ٹیم کی نمائندگی کا موقع مل جائے تو ذمہ داری پوری دیانت داری سے نبھانا ضروری ہوتا ہے۔ ڈیشامپ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’ہم یہاں فائنل کھیلنے آئے تھے۔ ظاہر ہے کہ تیسری پوزیشن کا میچ وہ مقابلہ نہیں جس کی ہمیں خواہش تھی، لیکن اب جب یہ میچ ہمارے سامنے ہے تو ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ اچھا کھیل پیش کریں اور مثبت نتیجہ حاصل کریں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ فرانس کی جرسی پہننا ہمیشہ باعثِ فخر ہوتا ہے اور کسی بھی مقابلے کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: ورلڈ کپ فائنل سے قبل نیویارک اور نیو جرسی میں فضائی آلودگی نے خدشات بڑھا دیے
یہ مقابلہ ڈیشامپ کے لیے جذباتی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ وہ تقریباً ۱۴؍ برس بعد فرانس کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے اپنا آخری میچ کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کے ساتھ گزارا گیا وقت ان کے پیشہ ورانہ کریئر کا سب سے خوبصورت باب رہا اور وہ ان یادوں کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں گے۔ فرانسیسی فٹبال فیڈریشن پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ ورلڈ کپ کے بعد ڈیشامپ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔ فرانس کے دفاعی کھلاڑی ابراہیما کوناتے نے بھی کوچ کے جذبات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ٹیم فائنل نہ کھیلنے پر مایوس ہے، لیکن تمام کھلاڑی اپنے کوچ کو کامیابی کے ساتھ رخصت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سیمی فائنل میں اسپین کے ہاتھوں شکست کے بعد ڈریسنگ روم کا ماحول انتہائی افسردہ تھا، تاہم اب ٹیم نے اپنی توجہ انگلینڈ کے خلاف آخری مقابلے پر مرکوز کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ فیفا ورلڈ کپ ٹرافی فاتح ٹیم کے کپتان کو پیش کریں گے،یہ تاریخی لمحہ کیوں ہوگا
ادھر انگلینڈ کی ٹیم بھی اسی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ سیمی فائنل میں ارجنٹائنا کے خلاف شکست کے بعد کوچ تھامس ٹوخل نے کہا کہ اگرچہ یہ وہ میچ نہیں جس کی ٹیم کو خواہش تھی، لیکن ورلڈ کپ کا اختتام فتح کے ساتھ کرنا اہم ہوگا۔ اس طرح دونوں یورپی طاقتیں ایک ایسے مقابلے میں آمنے سامنے ہوں گی جسے اکثر ’’کانسے کے تمغے کا میچ‘‘ کہا جاتا ہے، مگر اس میں قومی وقار، عالمی درجہ بندی اور انفرادی اعزازات، خصوصاً گولڈن بوٹ کی دوڑ، بھی داؤ پر لگی ہوگی۔ فرانس کے لیے یہ میچ کئی حوالوں سے اہم ہے۔ ایک طرف کھلاڑی اپنے رخصت ہونے والے کوچ کو یادگار کامیابی دینا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب کپتان کیلیان ایمباپے کے پاس گولڈن بوٹ کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع بھی موجود ہے۔ اگرچہ ڈیشامپ نے اشارہ دیا ہے کہ بعض زخمی یا تھکے ہوئے کھلاڑیوں کو آرام دیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فرانس میدان میں صرف رسمی کارروائی کے لیے نہیں اترے گا بلکہ فتح کے لیے بھرپور جدوجہد کرے گا۔