Updated: July 18, 2026, 7:00 PM IST
| New York
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے فائنل سے قبل اسپین نے ریفری کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹورنامنٹ میں خاص طور پر ارجنٹائنا کے میچوں کے دوران کئی واقعات کو نظر انداز کیا گیا۔ اسپین کے دفاعی کھلاڑی ایمیرک لاپورٹ نے کہا کہ اگر فائنل میں سخت اور غیر جانبدار ریفرینگ نہ ہوئی تو میچ بے قابو ہو سکتا ہے۔
اسپین کے سینئر دفاعی کھلاڑی ایمیرک لاپورٹ ۔تصویر: آئی این این
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے فائنل سے قبل اسپین اور ارجنٹائنا کے درمیان لفظی جنگ بھی شروع ہو گئی ہے۔ اسپین کے سینئر دفاعی کھلاڑی ایمیرک لاپورٹ نے ریفرینگ کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس پورے ٹورنامنٹ میں بعض ایسے واقعات پیش آئے جنہیں ریفریوں نے نظر انداز کیا، خصوصاً جب ارجنٹائنا میدان میں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ فائنل جیسے بڑے مقابلے میں قوانین پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہوگا تاکہ کھیل کا معیار برقرار رہے۔ لاپورٹ نے کہا کہ ’’کئی ایسے واقعات ہوئے جنہیں نظر انداز کر دیا گیا، خاص طور پر ارجنٹائنا کے میچوں میں۔ ریفری کو مضبوط کردار کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ ارجنٹائنا جسمانی کھیل کھیلتا ہے اور اپنے حریف پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ابتدا ہی میں واضح پیغام نہ دیا گیا تو میچ افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ سخت اور جسمانی فٹبال کھیل کا حصہ ہے، لیکن غیر ضروری فاؤلز اور اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ورلڈ کپ فائنل سے قبل اسپین کو جمال اور پورو کی فٹنیس کی فکر
اعداد و شمار بھی اسپین کے خدشات کو تقویت دیتے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں اب تک ارجنٹائنا نے ۸۷؍ فاؤلز کیے ہیں، جو کسی بھی دوسری ٹیم سے زیادہ ہیں، جبکہ اسپین کے فاؤلز کی تعداد ۵۵؍ رہی ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار بذاتِ خود کسی جانبداری کا ثبوت نہیں سمجھے جاتے، بلکہ اسپین کا مؤقف ہے کہ ریفریوں کو ایسے جسمانی کھیل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اسپین کے کپتان روڈری نے بھی اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ارجنٹائنا کی ممکنہ اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے بجائے ٹیم کو صرف اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق فائنل میں اعصاب پر قابو رکھنا ہی کامیابی کی کنجی ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈکپ : لیونل میسی کافو کے خصوصی کلب میں شامل ہونے کے قریب
دوسری جانب ارجنٹائنا کے ہیڈ کوچ لیونل اسکیلونی نے ان تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم پر لگنے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارجنٹائنا ہمیشہ قوانین کے دائرے میں رہ کر مقابلہ کرتا ہے اور اس کی پوری توجہ صرف ورلڈ کپ کا دفاع کرنے پر مرکوز ہے۔ اسکیلونی کے مطابق فائنل سے قبل اس نوعیت کی بحث کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ فیصلہ میدان میں ہوگا۔ ادھر فیفا نے سلووینیا کے تجربہ کار ریفری سلاوکو ونچیچ کو فائنل کے لیے میچ آفیشل مقرر کیا ہے۔ ونچیچ اس سے قبل یوئیفا چیمپئنز لیگ اور یورپی چیمپئن شپ سمیت کئی بڑے مقابلوں میں ریفرینگ کر چکے ہیں اور وہ ورلڈ کپ فائنل میں ریفرینگ کرنے والے پہلے سلووینیائی آفیشل ہوں گے۔ ان کی تقرری کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس حساس مقابلے میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے سخت فیصلے کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: جانبداری کے الزامات بے بنیاد، ہماری کامیابیاں محنت کا نتیجہ ہیں: لیونل میسی
ورلڈ کپ فائنل سے قبل ریفرینگ کو لے کر پیدا ہونے والی یہ بحث میچ کے دباؤ میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ ایک طرف اسپین شفاف اور سخت ریفرینگ کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ارجنٹائنا ان اعتراضات کو نفسیاتی حربہ قرار دے رہا ہے۔ اب تمام نظریں اس بات پر ہوں گی کہ میدان میں ریفری کے فیصلے اس ہائی پروفائل مقابلے کا رخ کس حد تک متاثر کرتے ہیں۔