• Wed, 16 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئے تعلیمی سال کا آغاز: جنگ زدہ علاقوں میں ۵۰؍ کروڑ طلبہ، غزہ میں ۱۵؍ لاکھ طلبہ تعلیم سے محروم

Updated: September 16, 2026, 1:11 PM IST | Gaza

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تعلیمی بحران خاص طور پر شدید ہے۔ سیو دی چلڈرن کی رپورٹ کے مطابق، اسکول جانے کی عمر کے ۱۵ لاکھ بچوں کو اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگی کارروائیوں نے تعلیم حاصل کرنے سے محروم کر دیا ہے۔ غزہ میں ۵ء۹۷ فیصد اسکولوں کی عمارتیں یا تو تباہ ہوچکی ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں ۸ لاکھ ۳۴ ہزار سے زائد طلبہ کو ایسی پابندیوں کا سامنا ہے جو محفوظ اور مناسب تعلیمی ماحول تک ان کی رسائی کو روکتی ہیں۔

Photo: X
جنگ نے لاکھوں بچوں کو تعلیم سے محروم کردیا ہے۔ تصویر: ایکس

دنیا بھر میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے لیکن اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، مسلح تنازعات اور فوجی حملے دنیا بھر میں بچوں اور طلبہ کی تعلیم تک رسائی کو شدید طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، تنازعات سے گھڑے علاقوں میں اس وقت تقریباً ۲۷ کروڑ ۳۰ لاکھ بچے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ عالمی سطح پر ایک اندازے کے مطابق، ۴۷ کروڑ ۶۰ لاکھ بچے فعال تنازعات والے علاقوں میں مقیم ہیں، جہاں اسکول مسلسل جاری دشمنیوں کے نشانے یا اس کا شکار بن رہے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تعلیمی بحران خاص طور پر شدید ہے۔ سیو دی چلڈرن کی رپورٹ کے مطابق، اسکول جانے کی عمر کے ۱۵ لاکھ بچوں کو اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگی کارروائیوں نے تعلیم حاصل کرنے سے محروم کر دیا ہے۔ غزہ میں ۵ء۹۷ فیصد اسکولوں کی عمارتیں یا تو تباہ ہوچکی ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں ۸ لاکھ ۳۴ ہزار سے زائد طلبہ کو ایسی پابندیوں کا سامنا ہے جو محفوظ اور مناسب تعلیمی ماحول تک ان کی رسائی کو روکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسپتالوں میں قبل ازوقت پیدائش کا بحران، انکیوبیٹر کم پڑگئے

سرحد پار کے تنازع نے مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں میں بھی تعلیمی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں اسکول جانے والے ۳ لاکھ ۴۰ ہزار سے زائد بچے اب بھی بے گھر ہیں جن میں سے ایک لاکھ اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنے سے قاصر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں کم از کم ۴۳۳ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران میں مقامی رپورٹس بتاتی ہیں کہ حالیہ علاقائی تصادم کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے ۱۲۰۰ سے زائد اسکولوں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئے۔

سوڈان میں خانہ جنگی اور پھیلتے ہوئے تنازع نے دنیا کی شدید ترین تعلیمی ہنگامی صورتحال میں سے ایک کو جنم دیا ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ۸۰ لاکھ سے زائد بچے اور نوجوان تعلیمی اداروں سے باہر ہوچکے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کی نوجوان آبادی کا ایک بڑا حصہ محفوظ تعلیمی ماحول تک رسائی سے محروم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے اے آئی قتل نظام کو بے نقاب کرنے والی دستاویزی فلم نے وینس انعام جیتا

امدادی تنظیمیں مسلسل متنبہ کر رہی ہیں کہ اسکولوں اور تعلیمی ڈھانچے کی مسلسل تباہی کے نتیجے میں بچوں کی ایسی ”گم گشتہ نسل“ (lost generation) پیدا ہونے کا خطرہ ہے جو بنیادی تعلیمی مواقع سے محروم رہ جائے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ اسکولوں سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو مضبوط بنایا جائے، اور فعال تنازعات کے دوران بھی تعلیم سے متعلق بچوں کے بنیادی حق کا پاس رکھا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK