اورنگ آباد ضلع پریشد نےرکن اسمبلی پرشانت بمب کی شکایت پرگنگاپوراورخلدآباد کےبالترتیب ۷۵۳؍اور۳۳۳؍اساتذہ کی تنخواہ میں اضافے پر پابندی عائدکی، فیصلہ منسوخ نہ کرنے پر احتجاج کااعلان۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 1:48 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
اورنگ آباد ضلع پریشد نےرکن اسمبلی پرشانت بمب کی شکایت پرگنگاپوراورخلدآباد کےبالترتیب ۷۵۳؍اور۳۳۳؍اساتذہ کی تنخواہ میں اضافے پر پابندی عائدکی، فیصلہ منسوخ نہ کرنے پر احتجاج کااعلان۔
اسکول کے قریب یا اس گائوں کے ہیڈکوارٹر کے حدود میں قیام نہ کرنے والے ضلع پریشد اسکول کے ایک ہزار سے زائد اساتذہ کو محکمہ تعلیم کا نوٹس اور آئندہ ۳؍سال کیلئے ان کی تنخواہ میں اضافہ نہ کرنے کے فیصلہ کے خلاف منگل کوان اساتذہ نے اسکول بند رکھا۔
اورنگ آباد ضلع پریشد نے ان اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی کی ہے جو گنگاپور اور خلد آباد تعلقہ میں ہیڈکوارٹر حدود میں رہائش پزیر نہیں ہیں ۔ کل ایک ہزار۸۶؍ اساتذہ کو ا گلے ۳؍سال کیلئے ان کی سالانہ تنخواہ میں اضافہ حاصل کرنے سے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے ۔ اس میں گنگاپور کے ۷۵۳؍ اور خلد آباد کے ۳۳۳؍ اساتذہ شامل ہیں۔ گنیش اُتسو کے دوران آنے والے اس فیصلے سے اساتذہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے،وہ انتظامیہ پر برہم ہیں۔واضح رہے کہ گنگاپور اور خلد آباد ٹیچر حلقہ کے بی جے پی رکن اسمبلی پرشانت بمب گزشتہ ۲؍سال سے متواتر یہ مسئلہ اٹھا رہے تھے ۔وہ متعلقہ محکموں سے بار بار اس طرح کے اساتذہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر ر ہے تھے ، جو اس گائوں میں نہیں رہتے ہیں جہاں کی اسکول میںپڑھاتے ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ اسکول والے گائوں میں اساتذہ کے نہ رہنے سے طلبہ کی تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔ بمب کی شکایت سے ریاست بھر میں ٹیچر یونینز اور کچھ ایم ایل اے ناراض ہیں۔ ان کے خلاف گزشتہ سال بھی احتجاج کیا گیا تھا، پھر بھی بمب اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:ممبرا: شملہ تالاب پارک میں اب قرأت سنائی جائے گی
اورنگ آباد ضلع پریشد کے پرائمری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے یہ احکامات ایجوکیشن آفیسر کی ایماپر جاری کئے ہیں ۔ حکومتی فیصلے اور سابقہ خط و کتابت کے مطابق اساتذہ کیلئے اسکول والے گائوں کے ہیڈ کوارٹر میں اپنے قیام سے متعلق گرام سبھا کی قرارداد پیش کرنا لازمی ہے ۔ جون ۲۰۲۲ء میں گروپ ایجوکیشن آفیسرز کے ذریعے اس بارے میں ایک سرکیولر جاری کر کے بار بار ہدایات جاری کی گئی تھیں لیکن متعدد اساتذہ کے قرارداد جمع نہ کرانے پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔
یہ کارروائی مہاراشٹر ضلع پریشد ڈسٹرکٹ سروسیز (ڈسپلن اینڈ اپیل) رولز ۱۹۶۴ء کے رول ۴ (۲) کے مطابق کی گئی ہے۔ اس سے قبل وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا تھا ۔ اگرچہ اساتذہ نے تحریری وضاحتیں جمع کرائی ہیں لیکن حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وہ غیر تسلی بخش ہیں۔ تنخواہوں میں اضافہ روکنے کا فیصلہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی منظوری کے بعد ہی نافذ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے متعلقہ اساتذہ کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: مہنگائی اور آن لائن خریداری سے روایتی کاریگرپریشان
اساتذہ یونینوں نے اس فیصلے کے خلاف ۱۵؍ستمبر کو گنگاپور میں مورچہ نکالا ۔ اس کے علاوہ گنگاپور اور خلدآباد میں ان اساتذہ نے اسکول بھی بند رکھے ۔اس فیصلہ سے گنیش اُتسو کے پس منظر میں تعلیم اور انتظامیہ کے درمیان تنازع ہونے کا امکان ہے ۔ اگرچہ اساتذہ میں غصہ ہے، لیکن ضلع پریشد اپنے فیصلے پر قائم ہے ، اس لئےاب دیکھنا یہ ہوگا کہ اس پر کیا فیصلہ ہوتا ہے؟
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثارکے مطابق’’ رکن اسمبلی پرشانت بمب نے اساتذہ پر جوالزام عائد کیا ہے وہ بے بنیاد ہے ۔اس بارے میں اساتذہ نے متعلقہ افسران کو دستاویزات دے دیئےہیں، اس کے باوجود ان کے ساتھ سخت کارروائی کی جا رہی ہے ۔مذکورہ کارروائی فوری طور پر منسوخ کی جائے، ورنہ تمام اساتذہ تنظیموں کی جانب سے جلد ہی ریاست گیر احتجاج کیا جائے گا۔‘‘