مہایوتی اور مہاوکاس اکھاڑی میں شامل پارٹیوں نے اپنی کٹر مخالف پارٹیوں سے ہاتھ ملا لیا ہے ،نظریات کی بناپر ووٹ دینے والے ووٹروں کیلئے فیصلہ کرنا مشکل
EPAPER
Updated: November 30, 2025, 9:11 AM IST | Mumbai
مہایوتی اور مہاوکاس اکھاڑی میں شامل پارٹیوں نے اپنی کٹر مخالف پارٹیوں سے ہاتھ ملا لیا ہے ،نظریات کی بناپر ووٹ دینے والے ووٹروں کیلئے فیصلہ کرنا مشکل
میونسپل اور گرام پنچایت الیکشن کے دوران مہاراشٹر کی تقریباً تمام پارٹیوں نے اپنے اپنے اتحاد اور نظریات کو درکنار کرتے ہوئے مخالف نظریات کی حامل اور حریف اتحاد میں شامل پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ اسے وہ ’مقامی مسائل‘ کی مجبوری یا ’حکمت عملی‘ بتا رہے ہیں لیکن اس کے سبب ووٹروں میں تشویش کا ماحول ہے ۔ خاص کر ایسے ووٹروں میں جو نظریات کی بنیاد پر ووٹ ڈالتے ہیں۔
یاد رہے کہ مہا وکاس اگھاڑی ایک سیکولر اتحاد ہے اور مہا یوتی کو ایک ہندوتواوادی اتحاد کہا جاتا ہے لیکن ان دونوں اتحادوں کا پیٹرن ایک ہی جیسا ہے۔ مہا وکاس اگھاڑی میںسیکولر ازم کی علمبردار کانگریس کے ساتھ این سی پی اور شیوسینا (ادھو) جبکہ مہایوتی میں ہندوتوا کی علمبردار بی جے پی کے ساتھ این سی پی اور شیوسینا ( شندے) شامل ہیں۔ بی جے پی کے ساتھ جو ۲؍ پارٹیاں ہیں وہ کانگریس کے ساتھ موجود ۲؍ پارٹیوں ہی سے ٹوٹ کر نکلی ہیں۔ ان کے سبب پہلے ہی ووٹر مخمصے میں تھے کون سا لیڈر کس پارٹی میں اس تعلق سے کنفیوژن تھا ۔ اب ان ووٹروں کی پریشانیاں اور بڑھ گئی ہیں کیونکہ ان پارٹیوں نے میونسپل اور گرام پنچایت الیکشن کے دوران اپنے اتحاد کو ختم کر دیا ہے اور مخالف پارٹیوں سے اتحاد کر لیا ہے اور اس کیلئے انہوں نے تاویلات بھی بڑی دلچسپ پیش کی ہیں۔ شرد پوار اور اجیت پوار کی پارٹیوں نے کولہاپور میں ہاتھ ملا لیا ہے۔ شرد پوار کی پارٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایسا بی جے پی کو کولہاپور کے اقتدار سے دور رکھنے کیلئے کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے ریاستی حکومت میں اجیت پوار والی این سی پی بی جے پی کے ساتھ ہے۔ اسی طرح شولاپور میں ایکناتھ شندے اور ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا نے اتحاد کر لیا ہے۔ یہاں بھی ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا نے اس اتحاد کا مقصد بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا کہا ہے۔
پال گھر کے ڈھانو میں کچھ الگ ہی کھیل ہوا ہے ۔ یہاں بی جے پی اور شیوسینا (شندے) آمنے سامنے ہیں۔ یہاں ایکناتھ شندے نے گزشتہ دنوں ایک جلسے کے دوران تقریر کی اوربغیر نام لئے بی جے پی کو نشانہ بنایا تھا۔ یہاں کانگریس اور شیوسینا (ادھو) کے امیدواروں نے اپنے پرچۂ نامزدگی واپس لے لیا ہے ۔ یعنی یہاں جو بھی صدر بلدیہ ہوگا وہ مہایوتی ہی کا ہوگا۔ یہ بات اب تک معلوم نہیں ہو سکی کہ مہا وکاس اگھاڑی کی طررف سے یہاں کوئی بھی امیدوار کیوں نہیں دیا گیا ہے۔ بیڑ ضلع میں بھی شرد پوار اور اجیت پوار کی پارٹیاں متحدہ طور پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔ یہاں ایم آئی ایم کابھی دبدبہ دکھائی دے رہا ہے اسلئے مقابلہ سہ رخی ہو گیا ہے۔ دونوں ہی این سی پی کے امیدوار بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس لئے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ہی پارٹیوں کی نگاہیں مسلم ووٹوں پر ہیں۔ مسلم ووٹ یہاں خاصی تعداد میں ہیں اور فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ حالانکہ ایم آئی ایم نے یہاں صدر بلدیہ کا امیدوار ایک غیر مسلم ہی کو بنایا ہے جو غالباً دلت ووٹروں کو اپنی طرف کرنےکا ایک دائو ہے۔ سندھو درگ میںہمیشہ شیوسینا کا دبدبہ رہا ہے لیکن یہ دبدبہ نارائن رانے کے سبب تھا ۔ اس لئے پارٹی کے ۲؍ حصوں میں منقسم ہونے کے بعدادھو ٹھاکرے کا اثر ورسوخ یہاں کم ہونے لگا ۔ یاد رہے کہ جس طرح ایکناتھ شندے براہ راست ادھو ٹھاکرے کے مخالف ہیں اسی طرح نارائن رانے بھی ادھو ہی کے دشمن ہیں۔ ایسی صورت میں یہاں ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کیلئے امکانات بے حد کم ہیں لیکن حیران کن طور پر یہاں سارے اختلافات اور مخاصمت کو نظر انداز کرتے ہوئے دونوں ہی پارٹیوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ ان دونوں کیا مقصد یہاں بی جے پی کا دبدبہ کم کرنا ہے۔ حالانکہ ادھو ٹھاکرے اس اتحاد سے راضی نہیں تھے لیکن مقامی لیڈران نے انہیں کسی طرح راضی کر لیا ہے۔ اس اتحاد سے نارائن رانے جو خود ہی یہاں پوری بی جے پی ہیں سخت ناراض ہیں۔ ان کا ایک بیٹا نلیش رانے مخالف خیمے میںہے جبکہ دوسرا نتیش ان کے ساتھ ہے ۔ اس طرح اس اتحاد کی وجہ رانے خاندان آمنے سامنے ہے۔ان اتحادوں کے ۲؍ مقاصد واضح نظر آتے ہیں۔ این سی پی کا آپسی اتحاد مسلم ووٹروں کیلئے ہے کیونکہ مقامی سطح پر اجیت پوار کو ہندوتوا وادی ووٹوںکا ملنا مشکل ہے جبکہ دونوں شیوسینا ایسے ہندو ووٹوں پر گھات لگائے ہوئے ہیں جو بی جے پی کو ووٹ نہیں دینا چاہتے۔ وہ کہیں کانگریس یا ونچت کی طرف نہ چلے جائیں اس لئے انہوں نے آپس میں اتحاد کر لیا ہے۔