• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اکولہ میں اقتدار سازی کیلئے جوڑتوڑ کا ماحول گرم!

Updated: January 20, 2026, 10:22 PM IST | Akola

۸۰؍نشستوں والی میونسپل کارپوریشن کے تقریباً معلق نتائج کے سبب سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے نومنتخب نمائندوں کو سنبھالنے میں لگی ہوئی ہیں

It is believed that the BJP can easily establish power in the Akko municipality.
ما نا جارہا ہے کہ بی جے پی اکوکہ بلدیہ میںآسانی سے اقتدار قائم کرسکتی ہے۔

اکولہ بلدیہ میں اقتدار کے لئے جوڑ توڑ کا کھیل عروج پر ہے۔ اس دوران افواہ پھیل گئی کہ ہے کہ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے تمام ۶؍ اراکین روپوش ہوگئے اور اُن تک رسائی نہیں ہو پارہی ہے لیکن اس افواہ کی تردید کے لئے رکن اسمبلی تمام ۶؍اراکین کے ساتھ میڈیا کے سامنے آئے اور کہا کہ تمام۶؍ اراکین کہیں غائب نہیں ہوئے ہیں۔ سب ایک ساتھ ہیں اور سب اپنے موقف پرقائم ہیں۔ روپوش ہونے کی خبر افواہ ہے۔ یہ کہتے ہوئے رکن اسمبلی نتن دیشمکھ نے سب کو سیدھا کیمرے کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا۔ واضح رہےکہ بی جے پی اور کانگریس بلدیہ پر اقتدار کے لئے سیاسی جوڑ توڑ کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ اس طاقت کے کھیل میں اکولہ میں ہر رکن بلدیہ حتیٰ کہ چھوٹی پارٹیوں کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہو گئی ہے لیکن اس رسہ کشی میں، ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا اور ونچت بہوجن اگھاڑی کا حکومت بنانے میں اہم اور ’’کنگ میکر‘‘ کا کردار ہے۔ اس دوران یہ افواہ پھیل گئی کہ شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) کے ۶؍ اراکین روپوش ہوچکے ہیں جس کی تردید کے لئے رکن اسمبلی نتن دیشمکھ کو ۶؍اراکین کے ساتھ میڈیا  کے سامنے آکریہ بیان دینا پڑا کہ ہم جلد ہی اپنے فیصلے کا اعلان کریں گے۔ واضح رہے کہ اکولہ بلدیہ میں کل نشستیں ۸۰؍ ہیں جس میں سے بی جے پی نے ۳۸ ؍پر، کانگریس۲۱ ؍پر شیوسینا (ادھو) نے ۶ ؍پر، شندے سینا نے ایک، این سی پی (اجیت پوار) نے ایک، این سی پی (شردپوار) نے ۳ ؍پر، ونچت بہوجن اگھاڑی نے ۵ ؍پر، ایم آئی ایم نے ۳ ؍پر جبکہ ۲ ؍آزاد امیدوار نے جیت حاصل کی ہے۔ اکولہ بلدیہ میں سیاسی طاقت تین حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ 
 ۸۰ ؍رکنی بلدیہ میں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے سے بی جے پی ۳۸ ؍سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے جبکہ کانگریس ۲۱ ؍سیٹیں جیت کر دوسری سب سے بڑی پارٹی بنی ہے اور دونوں پارٹیاں اکولہ بلدیہ میں حکومت بنانے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ طاقت کے اِس کھیل میں ہر رکن بلدیہ کو بڑی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ شندے شیو سینا اور اجیت پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی بی جے پی کی حلیف ہیں لیکن دونوں نے ایک ایک کارپوریٹر جیتا ہے  جبکہ دو آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جس میں آشیش پویترکار بی جے پی کے باغی آزاد امیدوار بن کر جیتے ہیں جبکہ دوسرے آزاد امیدوار چاند بھوجا چودھری ہیں جنہیں بی جے پی نے اسپانسر کیا تھا۔ ان بنیادوں پر بی جے پی یہ یقین ظاہر کررہی ہے کہ وہ بلدیہ میں آسانی سے اقتدار قائم کرلے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK