پرکاش امبیڈکر کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کی میٹنگ، متفقہ موقف : ہمیں اقتدار میں بی جے پی نہیں چاہیے۔
پرکاش امبیڈکر بھی اس وقت اکولہ میں کنگ میکر کی پوزیشن میں ہیں۔ تصویر: آئی این این
اگرچہ بی جے پی اکولہ بلدیہ میں ۳۸ ؍سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، لیکن اسے اکثریت کے لئے درکار ۴۱؍سیٹوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے شہر میں ’’ہائی وولٹیج‘‘ سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم، کانگریس اور این سی پی کے دونوں دھڑوں کے لیڈروں نے بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے ونچت بہوجن اگھاڑی کے لیڈر پرکاش امبیڈکر سے جمعرات کو دیر رات ملاقات کی۔
اس ملاقات نے اکولہ کے سیاسی حلقوں میں ہل چل پیدا کردی ہے اور اب تمام اپوزیشن پارٹیوں کے مل کر حکومت بنانے کا امکان ہے۔ اس حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر، کانگریس رکن اسمبلی ساجد خان پٹھان اور پرکاش امبیڈکر کے درمیان بند دروازے میں ایک اہم میٹنگ ہوئی، جس میں اے آئی ایم آئی ایم اور دونوں این سی پی کے لیڈران بھی موجود تھے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانگریس جس کے ۲۱؍ اراکین ہیں، نے بی جے پی کو روکنے کیلئے بڑا سمجھوتہ کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے۔ کانگریس نے ٹھاکرے گروپ اور دیگر حلیفوں کو واضح تجویز دی ہے کہ ہمیں بلدیہ میں کوئی عہدہ نہیں چاہیے، لیکن ایک غیر بی جے پی حکومت بنائی جائے۔ اپوزیشن کی اس ممکنہ محاذ سازی کی وجہ سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اکولہ میں حکومت بنانے کی بی جے پی کی راہ مشکل ہو جائے گی۔ اکولہ بلدیہ میں اقتدار کے لئے اپنی طاقت کو متوازن کرنے کے لیے سیاسی کشمکش جاری ہے، ایسے میں ونچت بہوجن اگھاڑی اور ٹھاکرے گروپ’کنگ میکر‘ کے کردار میں ہیں۔ جہاں ۸۰؍رکنی بلدیہ میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے ۴۱؍سیٹیں درکار ہیں، وہیں بی جے پی ۳۸؍ سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بنی ہے۔ تاہم، انہیں اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے، کانگریس نے اپنی کمر کس لی ہے اور رکن اسمبلی ساجد خان پٹھان نے جمعرات کی رات ونچت بہوجن اگھاڑی کے لیڈر پرکاش امبیڈکر سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ دونوں لیڈران کے درمیان ۴۵؍ منٹ تک بند کمرے میں بات چیت ہوئی، جس میں کانگریس نے ونچت صدر پرکاش امبیڈکر سے ۵؍اراکین کی حمایت کی درخواست کی۔ جبکہ دوسری جانب، بی جے پی نے پہلے ہی ٹھاکرے گروپ کو، جس کے ۶؍ اراکین ہیں، کو ساتھ آنے کی پیشکش کی تھی۔ کانگریس جس کی ۲۱ ؍سیٹیں ہیں، اب پرکاش امبیڈکر کی مدد سے بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ چونکہ اکولہ میں کسی ایک پارٹی کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے، اس لئے اکولہ بلدیہ میں اقتدار قائم کرنا اب اس بات پر منحصر ہے کہ ونچت بہوجن اگھاڑی اور شیو سینا ٹھاکرے گروپ کس کی حمایت کریں گے۔