• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اچل پور نگرپریشد میں بی جے پی اور ایم آئی ایم کا اتحاد ؟

Updated: January 24, 2026, 12:41 PM IST | Ali Imran | Amravati

لوکل باڈی کمیٹیوں پر اقتدار کیلئے دونوں ہی پارٹیوں کےبالراست ’اتحاد‘پر چہ میگوئیوں کا بازار گرم ہے، باونکولے نے مقامی ذمہ دار سے جواب طلب کیا۔

File photo of Achalpur Nagar Parishad, where the BJP is the municipal president. Picture: INN
اچل پور نگر پریشد کی فائل فوٹو، جہاں بی جے پی کا میونسپل صدرہے۔ تصویر: آئی این این
امراوتی ضلع کی سب سے بڑی اچل پور نگرپریشد میں صدر اور نائب صدر کے عہدوں کے لئے بی جے پی نے اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ اس سے پہلے، اکولہ ضلع کے آکوٹ بلدیہ میں بی جے پی-ایم آئی ایم کے اتحاد کی خبریں گردش میں تھیں۔ لیکن ریاستی سطح پریہ معاملہ سرخیوں میں آنے کے بعد وزیر اعلیٰ اور بی جےپی لیڈر دیویندر فرنویس نے تردید کی تھی کہ  ایم آئی ایم کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوا ہے اور انہوں نے اتحاد کی کوشش کرنے والوں پر کارروائی کا انتباہ بھی دیا تھا۔ تاہم اس کے بعد بھی بی جے پی نے اچل پور میں ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کر کے سبھی کو چونکادیا ہے۔
نگرپریشد میں کس کی کیا پوزیشن ہے؟
اگرچہ ۴۱ رکنی اچل پور نگرپریشد میں بی جے پی کی روپالی متھانے نے صدر بلدیہ کا عہدہ جیت لیا ہے، لیکن کانگریس کے پاس اراکین بلدیہ کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ کانگریس کے ۱۵؍ اراکین ہیں، ۹؍ بی جے پی کے، ۳؍ اے آئی ایم آئی ایم کے، ۲؍ پرہار سنگٹھنا سے، ۲؍ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے، اور ۱۰؍ آزاد امیدوار ہیں۔ ان دس آزاد امیدواروں کی بناء پر اچل پور بلدیہ میں طاقت کا توازن بار بار تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ اس سے پہلے پرہار اور کچھ آزاد امیدواروں کی مدد سے کانگریس نے نائب صدر کے عہدہ پر قبضہ کیا تھا۔
بلدیاتی کمیٹیوں کیلئے ’درپردہ اتحاد‘کیسے ہوا؟
تاہم بدھ کو مختلف بلدیاتی کمیٹیوں کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کے انتخابات سے قبل سیاسی بساط پر نئے مہروں نے ہلچل مچادی۔ بلدیہ میں ایک سینئر آزاد رکن کلّو مہاراج دکشت نے ۱۰؍آزاد اراکین کے ساتھ ایک الگ گروپ بنایا اور جس میں اے آئی ایم آئی ایم کے ۳؍ممبران اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے دو ممبران شامل تھے۔ جس کی وجہ سے اس گروپ کی تعداد ۱۵؍ تک پہنچ گئی۔ اس گروپ کو بلدیہ کے مختلف کمیٹیوں پر کنٹرول کیلئے مزید ۷؍اراکین کے حمایت کی ضرورت تھی۔ چونکہ کانگریس کے اراکین کی تعداد سب سے زیادہ تھی، اسلئے اس گروپ نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کی تجویز پیش کی۔ شرط یہ تھی کہ کچھ مخصوص بلدیاتی کمیٹیوں پر اس گروپ کے اراکین کو منتخب کیا جائے، بدلے میں کچھ بلدیاتی کمیٹیاں اور صدر بلدیہ کا عہدہ کانگریس کو دیا جائے۔ تاہم کانگریس نے اس تجویز کو واضح الفاظ میں رد کردیا۔ کانگریس کے انکار کے بعد، کلّو مہاراج دکشت کی قیادت میں آزاد اراکین، ایم آئی ایم، اور این سی پی گروپ نے اپنا رُخ بی جے پی کی طرف کیا۔ بی جے پی نے بھی ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر اس تجویز کو ہری جھنڈی دے دی اور بی جے پی نے اس گروپ کے ساتھ غیر متوقع اتحاد قائم کرلیا، جس میں ایم آئی ایم بھی شامل تھی۔
خیال رہے کہ کانگریس کو نظرانداز کرکے اور اے آئی ایم آئی ایم سمیت ایک گروپ سے مدد لے کر بلدیاتی کمیٹیوں پر غلبہ حاصل کرنے کی بی جے پی کی یہ کوشش امراوتی ضلع میں سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ بی جے پی جو سیاست میں ہندوتوا کی وکالت کرتی ہے، اس نے کھلے عام آئی ایم آئی ایم کے ساتھ ہاتھ ملالیا ،اسے بی جے پی کا سیاسی دوغلا پن قرار دیا جارہا ہے اور سوال قائم کئے جارہے ہیں۔
اتحاد سے کس کو کیا ملا؟
بلدیاتی کمیٹیوں کے انتخابات ایک نئی مساوات کے مطابق طے کیے گئے۔ ایم آئی ایم کے ایک رکن کو بی جے پی کے نو اراکین کی براہ راست حمایت سے تعلیمی کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ بی جے پی نے خواتین اور بچوں کی بہبود کمیٹی کی چیئرمین شپ اپنے پاس رکھی، وہ بھی ایم آئی ایم کی حمایت سے، جب کہ منصوبہ بندی و تعمیرات کمیٹی کی صدارت ایک آزاد کے پاس گئی۔ 
اطلاعات کے مطابق وزیر محصولات و بی جے پی لیڈر  چندر شیکھر باونکولے نے اچل پور بلدیہ میں بلدیاتی کمیٹی چیئرمین کے عہدہ کے انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ بی جے پی کے اتحاد کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ نو منتخب صدر بلدیہ روپالی متھانے کو اس معاملے میں فوری وضاحت پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔جس پر روپالی متھانے کے ذریعہ جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم آزاد امیدواروں کے ساتھ اچل پور وکاس اگھاڑی  میں ہے اور بلدیہ میں بی جے پی کا ایک آزاد گروپ ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بی جے پی کا اے آئی ایم آئی ایم سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK