Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیا وزیراعلیٰ، نیا انداز، اسٹالن سے ملنے وِجے اُن کے گھر پہنچے

Updated: May 12, 2026, 7:14 AM IST | Chennai

تمل ناڈومیں سیاسی رقابت کی روایت کو ختم کرنے کی کوشش، سابق وزیراعلیٰ نے گلے لگا کر خیر مقدم کیا

Vijay presenting a shawl to MK Stalin at his residence
وجے ، ایم کے اسٹالن کی رہائش گاہ پرانہیں شال پیش کرتے ہوئے

 تمل عوام کا دل جیت کر  وزارت اعلیٰ  کے منصب تک پہنچنے والے سی جوزف وجے ریاست میں سیاسی رقابت اور تلخی کی روایت کو ختم کرتے ہوئے  پیر کو اپنے پیش رو وزیراعلیٰ  ایم  کے اسٹالن سے ملنے الوارپیٹ  میں  ان کی رہائش گاہ پر پہنچ  گئے۔  اسٹالن اور ان کے بیٹے اُدھیاندھی اسٹالن نے وجے کو گلے لگاکر خیر مقدم کیا  اور اپنے  ساتھ گھر کے اندر لے گئے جہاں کافی دیگر تک خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوتی رہی۔ انہوں نے ایک دوسرے کو شال پہنا کر عزت افزائی بھی کی۔ 
  تمل ناڈو ایک ایسی ریاست ہے  جہاں کئی دہائیوں سے سیاسی لیڈروں  کے درمیان سخت رقابت اور بائیکاٹ کی روایت رہی ہے۔اس روایت کو اس سے قبل  ایم کے اسٹالن نے۲۰۱۶ء میں  توڑا تھا جب وہ جے للتا کی حلف برداری  کی تقریب میں شریک ہوئے  تھے۔ وجے نے اسٹالن ہی نہیں بلکہ’ ایم ڈی ایم کے‘  کے صدر وائیکو،’پی ایم کے  ‘کے صدر انبومنی رامدوس اور ’این ٹی کے‘  کے صدر سیمن سے بھی خیرسگالی ملاقاتیں کیں۔
 سابق وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن جن کو ہرا کر وجے اس عہدہ تک پہنچے ہیں، سے انتخابی نتائج کے بعد  یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔   یہ ملاقات اس لئے بھی اہم ہے کہ اتوار کو وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد  جوزف وجے نے اسٹالن کے دور اقتدار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور   ریاست پر ۱۰؍لاکھ کروڑ کے قرض کا حوالہ دیتے ہوئے  وہائٹ پیپر جاری کرنے کا اعلان کیاتھا۔ 
  ایم کے اسٹالن نے ملاقات کے حوالے سے ایکس پر لکھا ہے کہ ’’معززجناب  وجے، جنہوں نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھالی ہے،  نے سیاسی شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھ سے ملاقات کی اور میری نیک تمنائیں قبول کیں۔ میں نے انہیں دلی مبارکباد دی اور اپنی جانب  سے مشورے پیش  کئے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK