• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گرلز ہاسٹل میں غیر معیاری کھانا ملنے پر طالبات کا احتجاج

Updated: September 11, 2026, 8:00 PM IST | New Delhi

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے جے اینڈ کے ہاسٹل میں مبینہ طور پر غیر معیاری کھانا فراہم کئے جانے اور کھانے میں کیڑے مکوڑے ملنے کی شکایات پر طالبات نے شدید احتجاج کیا، جو جمعرات کی رات دیر گئے تک جاری رہا۔ احتجاج کے بعد انتظامیہ نے طالبات کے مطالبات سن کر مسائل کے جلد حل کی یقین دہانی کرائی، تاہم، طالبات نے سہولیات بہتر نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ احتجاج کرنے کا انتباہ دیا ہے۔

Students protest outside Jammu and Kashmir hostel over poor quality food in the mess. Photo: INN
میس میں ناقص غذا ملنے پر طالبات جموں اینڈ کشمیر ہاسٹل کے باہر احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

یہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طالبات کےجموں اینڈ کشمیر ہاسٹل کے میس میں لمبے عرصے سے غیر معیاری کھانا دیا جا رہاہے۔ طالبات نے الزام لگایا ہے کہ متعدد بار کھانے میں کیڑے مکوڑے نکلتے ہیں، کبھی خراب کھانا دیا جاتا ہے تو کبھی کھانے میں استعمال ہونے والی اشیاء بہت غیر معیاری قسم کی ہوتی ہیں جس کے سبب طالبات کی صحت بڑے پیمانے پر متاثر ہونے کے خدشات ہوتے ہیں ۔ اسی ضمن میں جمعرات کی رات ۳؍ بجے تک طالبات نے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کیا جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے ان کے مطالبات کو سنا گیا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ جلد ہی ضروری اقدام کئے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: چمپئن لیگ کا شاندار آغاز، پی ایس جی، لیور پول اور آرسنل کی فتح

ایک طالبہ، جو اسی ہاسٹل میں مقیم ہیں اور اس احتجا ج میں مکمل طور پر سرگرم تھیں، انہوں نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کی رات کو انہیں میس میں جو کھانا دیا گیا اس میں کیڑے موجود تھے، جس کی شکایت انہوں نےانتظامیہ سے کی، لیکن سوائے یقین دہانی کے کچھ حاصل نہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب یہ بات ان کی والدہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے انتظامیہ کو فون پر اس معاملے کی شکایت کی جس کے بعد کھانے کے معیار کوسدھار نے کے بجائے طالبہ کوہی ہراساں کیا گیا، ان کی غیر موجودگی میں ان کے کمرے کی تلاشی لی گئی اور ان کے ساتھ بدتمیزی بھی کی گئی۔ بارہا شکایات کے بعدبھی جب یہ معاملہ حل نہ ہوا تو طالبات نے جمعرات کو دیر رات کیمپس میں احتجا ج کیا۔

یہ بھی پڑھئے: کرناٹک میں ’وندے ماترم‘ کے صرف دو بندگائے جائیں گے

ایک دوسری طالبہ گائتری ادھیکاری، جو ماس میڈیا کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اس احتجاج میں شامل تھیں ، انہوں نے کہا کہ احتجاج رات کے ۳؍ بجے تک جاری رہا، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی پراکٹرنے طالبات کے مطالبات سنے اور اسے حل کرنے سے متعلق یقین دہانی کرائی۔ گائتری نے مزید بتایا کہ ہاسٹل میں میس کے ٹھیکیدار کو گزشتہ چار سالوں سے بدلا نہیں گیا ہے، ہاسٹل کی فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس سہولیات وہیں کی وہیں ہیں۔ طالبات کا کہنا ہے کہ اگر سہولیات کو جلد بہتر نہیں کیا گیا تو وہ پھر سے دھرنے پر بیٹھیں گے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ باالخصوص جے اینڈ کے ہاسٹل کاہے۔ فی الحال انتظامیہ کی جانب سے مطالبات کوپورا کئے جانے کی بات تو کہی گئی ہے لیکن اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK