Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل ہیں: امریکی دعوؤں پر نئی رپورٹ

Updated: April 13, 2026, 2:04 PM IST | Washington

دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں، باوجود اس کے کہ ٹرمپ اور پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران زیر زمین ذخائر سے میزائل لانچرز کو بحال کر کے دوبارہ استعمال کر سکتا ہے۔

Iran`s underground missile cache. Photo: X
ایران کا زیر زمین میزائل کا ذخیرہ۔ تصویر: ایکس

امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جنہیں وہ زیر زمین ذخیرہ گاہوں سے نکال کر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حالانکہ امریکی قیادت کی جانب سے اس کے میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچنے کے دعوے کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ایران کے میزائل لانچرز کا ایک بڑا حصہ تباہ، نقصان زدہ یا ملبے تلے دب چکا ہے، تاہم ان میں سے کئی کو مرمت یا بازیافت کے ذریعے دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران کے میزائل ذخیرے کو بھی تقریباً نصف تک کم کیا جا چکا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے پاس درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان میں ایران جنگ بندی مذاکرات، امریکی افواج مشرق وسطیٰ روانہ

اس پیش رفت کے برعکس، امریکی صدر ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ ’’ایران کی فوج مکمل طور پر شکست کھا چکی ہے، ان کی فوج ختم ہو گئی ہے۔ ہم نے ہر چیز کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کے پاس بہت کم میزائل بچے ہیں اور ان کی پیداوار کی صلاحیت بھی نہایت محدود ہو چکی ہے۔ ہم نے انہیں سخت نقصان پہنچایا ہے۔‘‘ اسی طرح امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی دعویٰ کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام ’’فعال طور پر تباہ‘‘ کر دیا گیا ہے اور اس کے لانچرز اور میزائل بڑی حد تک غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ تاہم، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی فوجی صلاحیتوں کو جزوی طور پر بحال کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ خاص طور پر زیر زمین ذخائر میں محفوظ میزائلوں کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے، جو خطے میں مستقبل کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
مزید برآں، ایران کے ڈرون پروگرام کے حوالے سے بھی بتایا گیا ہے کہ اس کے پاس اب اپنے ابتدائی یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کا نصف سے بھی کم ذخیرہ باقی ہے، کیونکہ ان کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا اور پیداواری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تاہم حکام کے مطابق ایران روس سے اسی نوعیت کے نظام حاصل کر کے اپنی صلاحیت کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد دو ہفتوں کی جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: اسلام آباد مذاکرات شروع، لبنان میں اسرائیلی حملے

اعداد و شمار کے مطابق ۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والے اس تنازعے میں تقریباً ۳؍ ہزار ایرانی فوت ہوئے، جبکہ کم از کم ۱۳؍ امریکی فوجی بھی مارے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس دوران عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں خلل کے باعث تیل کی ترسیل پر اثر پڑا۔ رپورٹ کے مطابق، اگرچہ جنگ بندی نافذ ہے، تاہم خطے میں عسکری تیاری اور صلاحیتوں کے حوالے سے خدشات بدستور برقرار ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK