• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈ حجاب ڈے پر پوسٹ، نیویارک کے ظہران ممدانی کو شدید تنقید کا سامنا

Updated: February 06, 2026, 3:41 PM IST | New York

نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کو حجاب کو عقیدت، شناخت اور فخر کی علامت قرار دینے والی پوسٹ پر شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ یہ پوسٹ ورلڈ حجاب ڈے کے موقع پر ان کے دفتر برائے امورِ مہاجرین کی جانب سے شیئر کی گئی تھی۔

Zohran Mamdani.Photo:INN
ظہران ممدانی۔ تصویر:آئی این این

نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کو حجاب کو عقیدت، شناخت اور فخر کی علامت قرار دینے والی پوسٹ پر شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ گیا۔   یہ پوسٹ ورلڈ حجاب ڈے کے موقع پر ان کے دفتر برائے امورِ مہاجرین کی جانب سے شیئر کی گئی تھی، جسے ایران میں لازمی حجاب کے خلاف جاری احتجاجی صورتِ حال کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ 
پوسٹ میں کہا گیا تھا آج ہم دنیا بھر کی اُن مسلم خواتین اور بچیوں کے عقیدے، شناخت اور فخر کا جشن منا رہے ہیں جو حجاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں، جو عقیدت کی ایک طاقتور علامت اور مسلم ورثے کی نمائندگی ہے۔  اس پیغام پر سماجی کارکنوں اور مبصرین نے سخت اعتراض کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس پوسٹ کا لب و لہجہ ایران میں خواتین کو درپیش زمینی حقائق کو نظر انداز کرتا ہے، جہاں حجاب پہننے سے انکار پر خواتین کو گرفتار، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعض کو ہلاکت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 
ایرانی نژاد امریکی صحافی مسیح علی نژاد نے شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ظہران ممدانی کو براہِ راست مخاطب کیا۔  انہوں نے لکھا کہ ظہران ممدانی، واقعی؟ اس وقت؟ سچ کہوں تو مجھے نیویارک جیسے خوبصورت شہر میں رہتے ہوئے اذیت محسوس ہورہی ہے، جب آپ ورلڈ حجاب ڈے منا رہے ہیں اور میرے زخمی وطن ایران میں خواتین کو حجاب اور اس کے پیچھے موجود اسلامی نظریے کو مسترد کرنے پر قید، گولیوں اور موت کا سامنا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:رونالڈو لاپتہ ہیں: سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹر کا چرچا

مسیح علی نژاد نے میئر پر الزام لگایا کہ وہ ہمارے جیلرس کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایران میں کریک ڈاؤن پر خاموشی کے ساتھ اس پوسٹ کو شرمناک قرار دیا۔  فرانسیسی مصنف اور سماجی کارکن برنارڈ ہنری لیوی نے بھی پوسٹ پر تنقید کرتے ہوئے اس کے وقت اور پیغام دونوں پر سوال اٹھائے۔  انہوں نے لکھا ہے کہ ورلڈ حجاب ڈے؟ یہ کیسے ممکن ہے جب ایران میں ہزاروں خواتین محض حجاب نہ پہننے پر قید، تشدد اور قتل کا سامنا کر رہی ہیں، تو ایسے میں حجاب کا جشن منانا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ 

یہ بھی پڑھئے:راجپال یادو کا چیک باؤنس معاملہ:پانچ کروڑ کا قرض، چھ ماہ کی جیل اور اب خود سپردگی

ترک نژاد امریکی ماہرِ معاشیات اور سیاسیات تیمور کوران نے بھی پوسٹ کو کئی حوالوں سے نامناسب قرار دیا ہے۔  یہ ردِعمل ظہران ممدانی کے ماضی کے بیانات کے برعکس ہے، جن میں انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف بات کی تھی۔  گزشتہ سال انہوں نے بتایا تھا کہ ۱۱؍ ستمبر کے حملوں کے بعد ان کی خالہ نے حجاب پہننے کے باعث خود کو غیر محفوظ محسوس کیا اور سب وے میں سفر کرنا چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سیاست میں آنے پر انہیں اپنے عقیدے کو نجی رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK