نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو سڈنی یونیورسٹی میں ’ہمدردانہ قیادت‘ پڑھانے کے لیے مقرر کیا گیا ہے، *یونیورسٹی آف سڈنی کا کہنا ہے کہ ان کا کام ہمدردانہ قیادت، سماجی ہم آہنگی اور شہری اعتماد پر مرکوز ہوگا۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 9:02 PM IST | Sydney
نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو سڈنی یونیورسٹی میں ’ہمدردانہ قیادت‘ پڑھانے کے لیے مقرر کیا گیا ہے، *یونیورسٹی آف سڈنی کا کہنا ہے کہ ان کا کام ہمدردانہ قیادت، سماجی ہم آہنگی اور شہری اعتماد پر مرکوز ہوگا۔
نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے یونیورسٹی آف سڈنی میں شمولیت اختیار کی ہے جہاں وہ طلباء کو ’’ہمدردانہ قیادت‘‘ پر لیکچر دیں گی اور رہنمائی کریں گی۔یونیورسٹی نے اعلان کیا کہ ۴۶؍ سالہ آرڈرن اس مہینے یہ عہدہ سنبھالیں گی۔منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں، یونیورسٹی نے کہا کہ یہ آرڈرن کے لیے کل وقتی تدریسی ملازمت نہیں ہے۔واضح رہے کہ آرڈرن اس سال کے شروع میں اپنے شوہر کلارک گیفورڈ اور بیٹی نیو کے ساتھ سڈنی چلی گئی تھیں۔ انہوں نے شہر کے شمالی ساحلوں پر ایک جائیداد خریدی۔آرڈرن۲۰۱۷ء میں۳۷؍ سال کی عمر میں نیوزی لینڈ کی۴۰؍ ویں وزیر اعظم بنیں، اور جنوری۲۰۲۳ء تک خدمات انجام دیں۔اپنے دور میں، انہوں نے ملک کو۲۰۱۹ء کے کرائسٹ چرچ مسجد حملوں، مہلک واکاری/وائٹ آئی لینڈ آتش فشاں پھٹنے، اور کووڈ-۱۹؍ وبائی مرض کے دوران قیادت فراہم کی۔جبکہ وبائی مرض سے ان کے نمٹنےکے طریقہ کار کے سبب انہوں نے بین الاقوامی سطح پر پہچان حاصل کی، حالانکہ پابندیوں اور معاشی دباؤ نے ان کے عہدے کے اختتام پر گھریلو حمایت میں کمی میں اہم کردار ادا کیا۔تاہم انہوں نے جنوری۲۰۲۳ء میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھئے: گامبیا: ملک کےپہلے نابینا مجسٹریٹ کی تنقید، تمام نظام کی تشکیل اہل بینا کے مطابق
بعد ازاں یونیورسٹی آف سڈنی نے کہا، ’’ان کا کام ہمدردانہ قیادت، عالمی اور اقدار پر مبنی قیادت کے لیے نئے طریقوں کو مزید ترقی دینا؛ نیز مساوات، شمولیت اور فلاح و بہبود پر مرکوز عالمی صحت کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئے طریقے تلاش کرنا، سماجی ہم آہنگی اور شہری اعتماد پر مرکوز ہوگا۔ مزید برآں یونیورسٹی آف سڈنی اسکول آف پبلک ہیلتھ میں فیکلٹی آف میڈیسن اینڈ ہیلتھ میں مقیم، ڈیم جیسنڈا سڈنی پالیسی لیب اور یونیورسٹی بھر میں اقدامات پر وائس چانسلر کے دفتر کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ان کی ذمہ داریوں میں گیسٹ لیکچرز، ماسٹر کلاسز اور رہنمائی شامل ہوں گی۔
تقرری کے بعد آرڈرن نے کہا، ’’میں یونیورسٹی آف سڈنی میں شامل ہونے پر بہت خوش ہوں۔ عہدہ چھوڑنے کے بعد سے میں نے خود کو خاص طور پر قیادت کے سوال پر مرکوز پایا ہے کہ ہم اپنے بہت سے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے درکار قیادت کی بہتر حمایت اور حوصلہ افزائی کیسے کر سکتے ہیں۔میں شاندار طلبہ ، فیکلٹی اور وسیع تر یونیورسٹی آف سڈنی کمیونٹی کے ساتھ کام کرنے کے لیے منتظر ہوں، کیونکہ ہم تجربات کا اشتراک کرتے ہیں، اپنی کمیونٹیز کی بہتر خدمت کرنے اور آج بہت سے لوگوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں مدد کرنے کے طریقے تلاش کرتے اور تیار کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام نہ ملنے پرٹرمپ کا ناروے کے تعلق سے انتہائی نازیبا تبصرہ
یونیورسٹی آف سڈنی کے وائس چانسلر اور صدر مارک اسکاٹ نے تقرری کا خیرمقدم کیا، اور عوامی خدمت کے لیے آرڈرن کے نقطہ نظر کی تعریف کی۔انہوں نے کہا، ’’یونیورسٹی آف سڈنی میں ڈیم جیسنڈا آرڈرن کا خیرمقدم کرنا بہت خوشی کی بات ہے - میں نے طویل عرصے سے ان کی ہمت اور انسانیت کی تعریف کی ہے جو وہ عوامی زندگی میں لائی ہیں۔ہمارے طلبہ کے لیے، ڈیم جیسنڈا سے سیکھنے کا موقع غیر معمولی ہے، وہ نہ صرف ایک سابق وزیر اعظم سے ملیں گے، بلکہ ایک سوچ سمجھ کر پڑھانے والی استاد سے بھی ملیں گے جس کے پاس عوامی قیادت اور خدمت کے بارے میں اشتراک کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ان کا تعاون پبلک ہیلتھ، پبلک پالیسی اور یونیورسٹی بھر میں ہمارے کام کو تقویت بخشے گا۔‘‘
ذہن نشین رہے کہ سیاست چھوڑنے کے بعد، آرڈرن نے ہارورڈ یونیورسٹی میں فیلوشپ حاصل کی اور ۲۰۲۴ء میں یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے بلاوٹنک اسکول آف گورنمنٹ میں بطور ممتاز فیلو شامل ہوئیں۔مزید برآں انہوں نے ’’فیلڈ‘‘ بھی قائم کیا، جو ہمدردانہ قیادت پر مرکوز ایک فیلوشپ پروگرام ہے، اور آن لائن انتہا پسندی اور مصنوعی ذہانت پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔