• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا پر بچوں کی گمشدگی اور اغواء کی خبریں گمراہ کن : پولیس

Updated: December 16, 2025, 1:31 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

حال ہی میں ایم آر اے مارگ پولیس کے ذریعہ۶؍ ماہ قبل لاپتہ ہونے والی بچی کو تلاش کرکے والدین کے سپرد کرنے اور گمشدگی یا اغواء کے۹۸؍ فیصد کیس حل کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ یہ بھی اپیل کی کہ غیر مصدقہ خبروں کو سوشل میڈیا یا وہاٹس ایپ پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔

An appeal has been made not to upload any news on social media without verification. Picture: INN
بنا تصدیق کے کوئی بھی خبر سوشل میڈیا پر اپ لوڈنہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ تصویر: آئی این این
’کوا کان لے گیا‘ کے مصداق شہر اور مضافات میں ان دنوں وہاٹس ایپ،   ایکس، فیس بک اور انسٹا گرام پر  بچوں کی گمشدگی یا اغواء  کے تعلق سے یو ٹیوبر یا پھر اپنے آپ کو سماجی رضاکار بتانے والے  غیرمصدقہ اطلاعات اپ لوڈ کررہے ہیں   اور  والدین کواپنے بچوں کو اسکول سے ساتھ لانے اور لے جانے اور ان کا خیال رکھنے کی تلقین کررہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ان ویڈیو پیغامات کی وجہ سے خصوصی طو رپر اسکولی طلبہ کے والدین میں بے چینی پائی جارہی ہے اور وہ اس تعلق سے باتیں کرتے بھی نظر آرہے ہیں ۔ اس کے پیش نظر   پولیس نے سوشل میڈیا کا ہی استعمال کرتے ہوئے اپنے ایکس   اکاؤنٹ کے ذریعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے تمام پیغامات و اطلاعات کو غیرمصدقہ اورگمراہ کن قرار دیا ہے ساتھ ہی پولیس نے بنا تصدیق کے اس طرح کی کوئی بھی خبر کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے سے گریز کرنے کی بھی اپیل کی ہے ۔
گزشتہ ایک ہفتہ سے سوشل میڈیا پر مختلف یو ٹیوبر یا سماجی کارکنان بچوں کے اغواء کی ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کررہے ہیں ،جو عروس البلاد کی ہے ہی نہیں ۔ یا باقاعدہ اغواء کا سین فلمائے جانے والے ویڈیو اپ لوڈ کرکے شہر میں بچوں کی گمشدگی اور ان کے اغواء کی وارداتوں میں اضافہ ہونے کی اطلاعات دے رہے ہیں ۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ان ویڈیو پیغامات کے سبب والدین میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے اور وہ نہ صرف اس پر تبصرہ کررہے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی کسی نامعلوم شخص سے بات نہ کرنے ، اسکول کے گیٹ سے باہر نہ نکلنے یا کھانے کی کوئی چیز دینے پر انکار کرنے جیسی ہدایت دے رہے ہیں ۔
   پولیس نے سوشل میڈیا پر بچوں کے لاپتہ ، گمشدہ یا پھر اغوا ہونے کی وارداتوں میں اضافہ ہونے کی تمام  خبروں اور اطلاعات کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا ہے ۔ ممبئی پولیس نے اس ضمن میں   ایکس پر عوام کو مخاطب کرتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ شہر میں بچوں کے اغوا اور گمشدہ ہونے کی وارداتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے اس لئے بنا تصدیق کے چلائی  جانے والی ایسی خبروں اور افواہوں پر دھیا ن نہ دیں ۔ پولیس نے ایم آر اے مارگ کے ذریعہ حال ہی میں ایک ۴؍ سالہ گمشدہ بچی کو ۶؍ ماہ بعد وارانسی سےتلاش کرنے اورصحیح سلامت والدین کے سپرد کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ لاپتہ ، گمشدہ یا اغواء کی شکایت پر پولیس بہت ہی سنجیدگی سے تحقیقات کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گمشدہ یا لاپتہ یا اغوا  کے ۹۸؍ فیصد کیسوں کو حل کیا گیا ہے۔  پولیس بچپن بچاؤ آندولن اور مرکزی حکومت کے لاپتہ  اور گمشدہ بچوں کی تلاش کیلئےدی گئی ہدایت پر نہ صرف عمل کرتی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن کے مطابق ایسے کیسوں کو اولیت دیتے ہوئے اسے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے ۔
ممبئی پولیس کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ۵؍ برس میں ۱۸؍ یا اس سے کم عمر کے بچوں کی گمشدگی یا اغوا کے درج کردہ ۹۸؍ فیصد کیسوں کو حل کیا گیا ہے ۔پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بچوں کے اغواء اور گمشدگی سے متعلق وائرل ہونے والے ویڈیو کو بنا تصدیق کے وہاٹس ایپ گروپ یا کسی بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ نہ کریں اور نہ ہی اس تعلق سے ایسے پیغامات شیئر کریں جس سے والدین اور بچوں میں بے چینی اور خوف پیدا ہو۔
پولیس نے بچوں کےاغواء یا گمشدہ ہونے پر فوری طور پر نزدیکی پولیس اسٹیشن میں شکایت کرنے یا اس تعلق سے ۱۱۲؍ اور ۱۰۹۸؍ ہیلپ لائن نمبروں پر شکایت کرنے کی  اپیل کی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK