ویانا مذاکرات کا اگلا دورآئندہ ہفتے

Updated: April 13, 2021, 7:08 AM IST | Agency | Washington

ایران کا پابندی ہٹانے کاا صرار تعطل پیدا کر سکتا ہے: امریکہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کو ۲۰۱۵ءکے جوہری معاہدے پر واپس لانے کیلئے بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور اگلے ہفتے ویانا میں کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ، ایران پر عائد کردہ تمام پابندیوں کو ہٹائے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

امریکہ اور ایران ایک دوسرے کو ۲۰۱۵ءکے جوہری معاہدے پر واپس لانے کیلئے بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور اگلے ہفتے ویانا میں کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ، ایران پر عائد کردہ تمام پابندیوں کو ہٹائے۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مطالبہ تعطل کا باعث بن سکتا ہے۔امریکہ کی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار نے صحافیوں سے جمعہ کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات آسٹریا کے شہر ویانا میں آئندہ ہفتے کے وسط میں شروع ہوں گے۔ایران اور امریکہ کے سفارت کاروں کے درمیان ابتدائی مذاکرات کا دور جمعہ کو ختم ہوا تھا جس میں یورپی یونین کے نمائندوں کی طرف سے فریقین کو پیغامات دیئے گئے۔خیال رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز گزشتہ ہفتے منگل کو ویانا میں ہوا تھا جس میں ایران نے معاہدے میں شامل دیگر پانچ ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس کے مندوبین سے ملاقاتیں کی تھیں۔ جبکہ ان ممالک کے مندوبین نے امریکی سفارت کاروں سے بھی علاحدہ ملاقاتیں کیں۔امریکہ کے علاوہ معاہدے میں شامل ان ممالک کا ایران سے مطالبہ ہے کہ وہ جوہری سرگرمیوں کو ترک کرے   تاکہ اس پر عائد  پابندیوں میں نرمی کی جا سکے۔
 امریکی عہدیدار نے اب تک کے مذاکرات کو فائدہ مند اور تعمیری قرار دیا ہے۔ عہدیدار کے مطابق یورپی ثالث دونوں ممالک کے درمیان  ہوٹلوں میں ان کے پیغامات کا تبادلہ کرتے رہے۔ عہدیدار کے مطابق مذاکرات کے دوران ایسے خیالات کا تبادلہ کیا گیا جن کے ذریعے  ایران پر عائد کردہ پابندیاں ہٹانے سے متعلق رہنمائی حاصل ہو سکے۔  البتہ انہوں نے بتایا کہ  امریکہ کی طرف سے کچھ خاص پابندیوں کے ہٹائے جانے سے متعلق کوئی فہرست فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی ایران کی طرف سے ایسی کوئی فہرست مہیا کی گئی  کہ وہ جوہری معاہدے کی کن  خلاف ورزیوں کو روکے گا۔ عہدیدار کے بقول امریکہ وہ تمام پابندیاں ہٹانے کیلئے تیار ہے جن پر معاہدے میں شریک ممالک کو اعتراض نہیں ہے لیکن کیا ایران بھی اس پیش کش کے بدلے میں مطلوبہ اقدامات کرے گا؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK