• Thu, 01 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کے ذریعے’’انروا‘‘ کو نشانہ بنانے پراقوام متحدہ کے سربراہ کی سخت تنقید

Updated: January 01, 2026, 5:01 PM IST | Geneva

اسرائیل کے ذریعے اقوام متحدہ کی امدادی تنظیم (انروا) کو نشانہ بنانے کے مقصد سے آئین میں کی گئی ترامیم کی سخت مذمت کی ہے،انٹونیو غطریس نے کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام امدادی تنظیم کی کارکردگی کو مزید محدود کردیگا۔

UN Secretary-General Antonio Guterres. Photo: INN
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو غطریس۔ تصویر: آئی این این

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو غطریس نے فلسطینی پناہ گزینوں کی اقوام متحدہ کی ایجنسی (UNRWA) کے خلاف اپنائی گئی قانونی ترامیم کی اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے توثیق کی مذمت کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ اقدام اس ایجنسی کی کارروائیوں کو مزیدکردے گا۔انہوں نے بدھ کو اپنے ترجمان ا سٹیفن ڈوجاریک کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ’’یہ ترامیم نروا کی کارروائیوں اور اس کے فرائض کی انجام دہی میں مزید رکاوٹ پیدا کرنے کا باعث ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ قانون اور اس کی ترامیم  تنظیم پر عائد ہو نے والے بین الاقوامی قانونی فریم ورک اور اس کے درجے کے خلاف ہیں اور فوری طور پر منسوخ کئے جانے چاہئیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ، فرانس، کنیڈا کا غزہ کی صورتحال پراظہار تشویش،پابندی ہٹانے کا مطالبہ

غطریس نے زور دیا کہ انروا اقوام متحدہ کا لازمی جزو ہے اوراسے اقوام متحدہ کے مراعات و استثنیات کے کنونشن کے تحت مکمل تحفظحاصل ہے، جس میںاس کے اثاثے، جائیداد، اہلکار اور عملے تک شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ا نروہ کی استعمال کی جانے والی جائیداد ناقابل تسخیر ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے اسرائیل کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور مراعات و استثنیات کے کنونشن کے تحت عائد ہوتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ۲۲؍ اکتوبر کے اپنے مشاورتی فیصلے میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ بشمول انروا اور اس کے عملے کی مراعات و استثنیات کا مکمل احترام کرنے کی اسرائیل کی ذمہ داری کی تصدیق کی تھی۔
بعد ازاں غطریس انروا کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، اور غزہ اور پورے خطے میں فلسطینی عوام کی مدد میں اس کیگراں قدر خدمات کا اعتراف  کیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ میںانروا کی جاری کارروائیاں سلامتی کونسل کی قرارداد(۲۸۰۳؍) (۲۰۲۵ء) اور غزہ تنازعہ ختم کرنے کے جامع منصوبے پر مؤثر عملدرآمد میں معاون ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کے حالات تباہ کن: اسرائیل ۳۶؍ گھنٹوں کے اندر یہاں موجود درجنوں امدادی تنظیموں کو معطل کرے گا

واضح رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں، اسرائیلی پارلیمان (کنیست) نےانروا کے دفاتر کو بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کرنے کے بل کو حتمی منظوری دے دی تھی، جس پر فوری طور پر عمل درآمد شروع ہوگیا۔آرمی ریڈیو کے مطابق،۱۲۰؍ نشستوں پر مشتمل پارلیمان میں۵۷؍ ارکان کے موافق اور ۷؍ مخالف ووٹوں کے ساتھ یہ بل منظور ہوا۔اکتوبر۲۰۲۴ء میں، کنیسٹ نے ایک علاحدہ قانون بھی منظور کیا تھا جس میں اسرائیل میں انروا کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایجنسی کے کچھ عملے نے ۷؍اکتوبر۲۰۲۳ء کے حملے میں حصہ لیا تھا، جبکہ ایجنسی ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔یاد رہے کہ انروا کی بنیاد۷۰؍ سال قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے رکھی تھی جو زبردستی اپنی زمینوں سے بے دخل کیے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK